خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 406

$1948 406 خطبات محمود علاقوں میں بطور مبلغ کام کر رہے ہیں۔اگر ان کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ سو سے زیادہ بن جاتے ہیں۔اگر چالیس پونڈ فی کس خرچ کیا جائے تو یہ دو ہزار پونڈ بنتا ہے اور اگر روپے کے حساب سے لیا جائے تو یہ چھیں ہزار روپے بنتے ہیں اور اگر اسے بارہ سے ضرب دیں تو یہ تین لاکھ سے اوپر بنتا ہے۔یہ ادنیٰ سے ادنی خرچ ہے جو ان پر ہونا چاہیے۔پھر اگر جلسے کیے جائیں یہاں لاہور میں ہی اگر جلسہ کیا جائے تو اس کے اعلان اور دوسرے انتظام پر سو ڈیڑھ سو روپیہ سے زیادہ خرچ ہو جائیں گے۔اگر دوسرے ممالک میں فی جلسہ کا خرچ تین چار سو رکھا جائے اور سال میں بارہ جلسے کیسے جائیں تو سال میں ہر مشن کا جلسوں کا خرچ چار ہزار ساڑھے چار ہزار ہو جاتا ہے۔پچاس مشنوں میں یہ خرچ دو لاکھ کا ہو جاتا ہے۔پھر اگر صحیح طور پر لٹریچر اور اشاعت کا کام کیا جائے تو کسی مشن کا خرچ ہیں پونڈ ماہوار سے کم نہیں ہوسکتا۔یہ رقم ایک لاکھ نہیں ہزار روپے سالانہ کی ہوتی ہے لیکن درحقیقت چار پانچ روپیہ سالانہ اشاعت لٹریچر کا خرچ ہونا چاہیے۔پس اگر صحیح طور پر تبلیغ کی جائے تو صرف موجودہ مشنوں کا خرچ نو لاکھ کے قریب سالا نہ ہونا چاہیے۔اسی طرح بیرونجات کے لیے مبلغ بھی تیار کرائے جاتے ہیں اور انہیں بھی تحریک ہی خرچ دیتی ہے۔یہ بھی کوئی ڈیڑھ لاکھ کے قریب بنتا ہے۔بیسیوں لڑکے ہیں جنہیں تعلیم دی جارہی ہے کیونکہ بنے بنائے مبلغ نہیں مل سکتے۔ان لڑکوں میں سے کوئی ایف۔اے میں پڑھ رہا ہے، کوئی بی۔اے میں پڑھ رہا ہے، کوئی ایم۔اے میں پڑھ رہا ہے۔بہت سے مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ میں پڑھ رہے ہیں۔بہت سوں کو دین کی تعلیم پرائیویٹ دلوائی جا رہی ہے۔بعض کو غیر ملکوں میں تعلیم دلوائی جا رہی ہے۔بہت سے غرباء کے لڑکے ہیں جنہوں نے اپنی زندگیوں کو وقف کیا ہوا ہے۔لڑکا ہیں جماعت میں پڑھتا ہے۔اس کے ماں باپ غریب ہیں۔وہ کہتے ہیں ہم زیادہ سے زیادہ انٹرنس (ENTRANCE) پاس کروا سکتے ہیں۔یالڑ کا آٹھویں میں پڑھتا ہے والدین کہتے ہیں کہ ہم میں اسے آگے پڑھانے کی ہمت نہیں۔لڑکے ذہین ہیں تو ہم انہیں اپنے خرچ پر پڑھوانا شروع کر دیتے ہیں۔غرض درجنوں ایسے لڑکے ہیں جو تحریک کے خرچ پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ان پر بڑی بھاری رقمیں خرچ ہو رہی ہیں۔پھر مرکز کے اخراجات ہیں ، بیت المال اور دیگر محکمے ہیں ان تمام پر ڈیڑھ دولاکھ کے قریب خرچ ہو رہا ہے۔ہمارا سارا بجٹ چار لاکھ کے قریب ہے اور یہ بھی اس طرح کا