خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 32

$1948 32 خطبات محمود نے لڑکوں کو سائیکل پر سواری کرتے دیکھا تو میرے دل میں بھی سائیکل کی سواری کا شوق پیدا ہوا۔میں نے اس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں کیا۔آپ نے فرمایا مجھے سائیکل کی سواری تو پسند نہیں میں تو گھوڑے کی سواری کو مردانہ سواری سمجھتا ہوں۔میں نے کہا اچھا آپ مجھے گھوڑا ہی لے دیں۔آپ نے فرمایا پھر مجھے گھوڑا بھی وہ پسند ہے جو بہت مضبوط اور طاقتور ہو۔اس سے غالباً آپ کا منشا یہ تھا کہ میں اچھا سوار بن جاؤں گا۔آپ نے کپورتھلہ والے عبدالمجید خان صاحب کو لکھا کہ ایک اچھا گھوڑا خرید کر بھجوا دیں۔خان صاحب کو اس لیے لکھا کہ اُن کے والد صاحب ریاست کے اصطبل کے انچارج تھے اور اُن کا خاندان گھوڑوں سے اچھا واقف تھا۔انہوں نے ایک گھوڑی خرید کر تحفہ بھجوادی اور قیمت نہ لی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فوت ہوئے تو چونکہ آپ کی وفات کا اثر لازمی طور پر ہمارے اخراجات پر بھی پڑنا تھا اس لیے میں نے ارادہ کیا کہ اُس گھوڑی کو فروخت کر دیا جائے تا کہ اُس کے اخراجات کا بوجھ والدہ صاحبہ پر نہ پڑے۔مجھے ایک دوست نے جن کو میرا یہ ارادہ معلوم ہو گیا تھا اور جواب بھی زندہ ہیں کہلا بھیجا کہ یہ گھوڑی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تحفہ ہے اسے آپ بالکل فروخت نہ کریں۔اس وقت میری عمر انیس سال کی تھی۔وہ جگہ جہاں مجھے یہ بات کہی گئی تھی اب تک یاد ہے۔میں اُس وقت ڈھاب کے کنارے تشحیذ الا ذہان کے دفتر سے جنوب مشرق کی طرف کھڑا تھا جب مجھے یہ کہا گیا کہ یہ گھوڑی حضرت مسیح موعود کا تحفہ ہے اس لیے اسے فروخت نہ کرنا چاہیے۔تو بغیر سوچے سمجھے معا میرے منہ سے جو الفاظ نکلے وہ یہ تھے کہ بے شک یہ تحفہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے مگر اس سے بھی بڑا تحفہ حضرت اماں جان ہیں۔میں گھوڑی کی خاطر حضرت اماں جان کو تکلیف دینا نہیں چاہتا۔چنانچہ میں نے اُس گھوڑی کو فروخت کر دیا۔پھر آپ کی وفات کے بعد ہماری زمینوں وغیرہ کا انتظام ہمارے نانا جان مرحوم کیا کرتے تھے۔وہ کسی بات پر والدہ صاحبہ سے ناراض ہو گئے۔میں مسجد مبارک والے چوک میں کھڑا تھا کہ میر صاحب مرحوم ہماری زمینوں کے حساب کتاب والا رجسٹر ہاتھ میں لیے ہوئے آئے۔آتے ہی رجسٹر میرے ہاتھ میں دے کر کہنے لگے لو! یہ زمینوں کا انتظام خود سنبھالو۔میری اس وقت یہ حالت تھی کہ میں نہیں جانتا تھا کہ زمین کیا ہوتی ہے اور اُس کا انتظام کس طرح کیا جاتا ہے۔اس لیے اُن کا میرے ہاتھ میں رجسٹر دینا ایسا ہی تھا جیسے مجھ پر بجلی گر پڑی ہو۔میں نے رجسٹر اُن کے ہاتھ سے لے لیا