خطبات محمود (جلد 29) — Page 394
1948ء 394 خطبات محمود ہے۔ اس کے بعد میرے دوستوں نے مجھے کہا کہ اب آپ آرام کیجیے اور گھر بیٹھیے ووٹ آپ کو ہی ملیں گے۔ چنانچہ میں نے یہ فوارہ اور بچوں کے بیٹھنے کی جگہ بنوائی اور نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری دفعہ 90 فیصدی ووٹ مجھے ملے اور دس فیصدی ووٹ میرے مد مقابل کو ملے۔ انہوں نے کہا بس یہی فوارہ میں آپ کو دکھانے کے لیے اور یہ بتانے کے لیے یہاں آیا تھا کہ میری وہ ساری قربانیاں جن کے مقابلہ میں یہ فوارہ کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتا اور جو اُن کے 1/1000 حصہ کے برابر بھی نہیں ۔ اُن سے تو میں ووٹ حاصل نہ کر سکا لیکن جب میں نے یہ فوارہ بنادیا تو مجھے ووٹ مل گئے ۔ اس لیے کہ یہ کام ایسا تھا جو محلہ والوں کو نظر آتا تھا۔ تو اگر اس قسم کے حلقے بنا دیئے جائیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ لوگ اپنے اپنے حلقہ کی ترقی اور دوسروں پر سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے۔ مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ شہر کا نظام بھی قائم رہے۔ مثلاً شہر کے بڑے تبلیغی جلسے کسی محلہ کی جماعت کی وجہ سے نہیں ہو سکتے ۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو سمجھ اور توفیق دے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا مڈل سکول قائم کرلے۔ پھر اسے ہائی سکول بنائے ۔ پھر ضروری ہے کہ ہمارا اپنا کالج ہو۔ لڑکوں کے لیے الگ ہو اور لڑکیوں کے لیے الگ ہو۔ اور یہ کام ایسے ہیں جنہیں محلہ کی انجمنیں نہیں کر سکتیں ۔ لاز ما شہر کا نظام ہی ان کاموں کو سر انجام دے گا۔ پس یہ دونوں چیزیں ایک وقت میں ضروری ہیں اور اس بارہ میں مقامی جماعت کو اپنے فرائض کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں لاہور کی جماعت میں اگر کوئی نقص ہے تو اس کی وجہ نظام کی خرابی ہے ورنہ اگر انہیں سمجھایا جائے تو وہ سمجھ جاتے ہیں اور قربانی کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ انسان کے اندر یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ اگر اسے براہ راست مخاطب نہ کیا جائے تو اس کے اندر سستی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس سستی کو دور کرنے کے لیے نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر نظام ایسا ہونا چاہیے جس میں مختلف حلقہ جات افراد کے فائدہ کے لیے بھی کچھ نہ کچھ کام کر رہے ہوں ۔ افسر کے لئے بھی کچھ نہ کچھ کام کررتے لیے نہ کر رہے بننے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ انسان کچھ کام لے اور کچھ کام دے۔ جب تک کسی نہ کسی رنگ میں نظام کا وجود لوگوں کے لیے مفید نہ ہو اُس وقت تک اُن کی سستی دور نہیں ہو سکتی ۔ فطرتاً ہر انسان چاہتا ہے کہ میرا بھی کوئی کام ہو اور اس لیے وہ دوسروں کی طرف جھکتا ہے۔ دینی نظام لے لو یا د نیوی دونوں برقی نظر آئے گی۔ روحانی نظام میں جب لوگ حصہ لیتے ہیں تو اسی لیے کہ اللہ تعالیٰ