خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 392

$1948 392 خطبات محمود نہیں بلکہ وارڈ کے سپر د ہے۔کارپوریشن کے سپر د بڑے بڑے کام ہوتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتیں مقامی میونسپل کمیٹیوں کے سپرد ہوتی ہیں۔جیسے تعلیم ہے یا لوگوں کے لیے ہواخوری کا انتظام کرنا ہے یا ان کی صحت کا خیال رکھنا ہے۔اس کے لیے چھوٹی چھوٹی میونسپل کمیٹیاں بن جاتی ہیں جو تمام کام کرتی ہیں۔اسی طرح لاہور میں بھی مقامی کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔گو میں سمجھتا ہوں کہ ان کا نظام ایسا اچھا نہیں۔مجھے یاد ہے جب میں لندن گیا تو جس علاقہ میں ہماری مسجد ہے اُس علاقہ کے وارڈ میں دوستوں نے میری تقریر کرانی چاہی جسے میں نے تسلیم کر لیا۔وہ تقریر ہندوستان کے حالات پر تھی۔میری تقریر کے وقت جلسہ کا جو پریذیڈنٹ تھا وہ اس وارڈ کی طرف سے پارلیمنٹ کا ممبر تھا اور اتنا بڑا اثر اور رسوخ رکھنے والا تھا کہ وزیر اعظم کی تقاریر کے وقت اکثر وہی شخص پریذیڈنٹ ہوا کرتا تھا۔جب میری تقریر ختم ہوئی تو انہوں نے چائے پلائی اور پھر وہ مشایعت 3 کے لیے میرے ساتھ چل پڑے۔میں نے سمجھا کہ یہ مجھے خوش کرنے کے لیے رسما ساتھ چل پڑے ہیں۔کچھ دور جا کر میں نے ان سے کہا کہ اب آپ تشریف لے جائیے ہم چلے جائیں گے۔انہوں نے کہا میں نے ابھی کچھ دور آپ کے ساتھ ہی چلنا ہے۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے پھر کہا کہ اب آپ تشریف لے جائیے۔انہوں نے کہا میری غرض آپ کے ساتھ آنے سے یہ ہے کہ میں آپ کو ایک جگہ دکھانا چاہتا ہوں۔چنانچہ کچھ دور جانے کے بعد ایک چوک آ گیا جس میں ایک فوارہ لگا ہوا تھا اور اس کے اردگر دچھوٹی چھوٹی منڈ رتھی تا کہ بچے جب وہاں سیر کے لیے آئیں تو بیٹھ سکیں۔وہاں پہنچ کر انہوں نے کہا بس یہ جگہ آپ کو دکھانے کے لیے میں آیا تھا۔پھر انہوں نے کہا ہم کہا کرتے ہیں کہ ہم بڑے تعلیم یافتہ ہیں اور ہماری پبلک ساری سیاسیات کو بجھتی ہے بلکہ ہم یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ بعض ممالک کی سیاست ناقص ہے اور وہ صحیح جمہوری اصولوں پر حکومت نہیں کر رہے مگر دراصل یہ بات غلط ہے۔ہماری پبلک بھی اُسی طرح جاہل ہے جس طرح اور دنیا کے لوگ جاہل ہیں۔چنانچہ میں آپ کو اپنا واقعہ سناتا ہوں۔میں نے جنگ کے موقع پر اپنی قوم کے لیے بڑی بڑی قربانیاں کیں۔لاکھوں کی تجارت میں نے ملک کی خدمت کے لیے تباہ کر دی۔اس کے بعد بعض اہم کاموں کے لیے میں سالہا سال بیرونی ممالک میں رہا۔اتنی بڑی ہے خدمات کے بعد جب میں واپس آیا تو مجھے بعض دوستوں نے کہا کہ آپ اس وارڈ کی طرف سے پارلیمنٹ کی ممبری کے لیے کھڑے ہو جائیں۔میں نے اُن کی اِس بات کو مان لیا اور کھڑا ہو گیا۔لوگوں