خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 389

1948ء 389 خطبات محمود ان ہے جہاں ورنہ واقعہ یہ ہے کہ جن مقاصد کے لیے خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو قائم کیا ہے اُس میں جماعتیں تو الگ رہیں ، ملک تو الگ رہے ساری دنیا مل کر بھی کچھ نہیں کر سکتی ۔ اس لیے جہاں تک خدائی تائید اور نصرت کا سوال ہے لاہور کی جماعت یا پاکستان کی ساری جماعتیں یا ساری دنیا کی جماعتیں بھی اس یا میں روک پیدا نہیں کر سکتیں اور کسی فتنہ کے پیدا ہونے سے کوئی چیز ہمیں ڈرا نہیں سکتی۔ کیونکہ اگر یہ سچ ہے کہ خدا نے ہم سے ایک کام لینا ہے تو دنیا کی طاقتوں کے متعلق یہ سمجھ لینا کہ وہ اس میں روک بن سکتی ہیں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم اس امر کا اظہار کرتے ہیں کہ ہمارا خدا نَعُوذُ بِالله ناقص اور کمزور ہے اور وہ دنیا کے لوگوں سے ڈر جائے گا۔ پس میں ان دوستوں کی خاطر جنہوں نے گھبراہٹ میں مجھے خطوط لکھے ہیں اور یہ سمجھا ہے کہ میں ان کے متعلق کسی بدظنی میں مبتلا ہوں یہ ظاہر کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ انہوں نے جو نتیجہ نکالا وہ غلط ہے۔ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر تھی کہ لاہور فتنوں کا گھر بننے والا ہے چنانچہ جتنے فتنے اٹھے ان میں سے اکثر یہیں سے اٹھے۔ یہیں ہماری مخالف جماعت کا مرکز ہے۔ اور پھر وہ لوگ جو قادیان سے نکلے انہوں نے بھی لاہور میں ہی جتھے پیدا کیے۔ مگر جہاں وہ پیشگوئیاں تھیں وہاں یہ بھی پیشگوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو متروک نہیں کیا بلکہ اس میں نیک اور پاک لوگ بھی موجود ہیں 1 اور کسی جماعت میں سب کے سب مخلص لوگوں کا ہونا کوئی شرط نہیں ہوتا اور نہ یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی شہر ایسا ہو جس میں کوئی غیر مخلص نہ ہو۔ ہر جماعت میں مخلص بھی ہوتے ہیں اور غیر مخلص بھی ہوتے ہیں۔ بہر حال یہ بھی ناممکن ہے کہ ہم اس شہر کے متعلق یہ کہہ سکیں کہ اس میں کوئی غیر مخلص نہیں۔ اور یہ بھی ناممکن ہے کہ ہم یہ کہیں کہ اس میں کوئی مخلص نہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ دنیا میں کئی شہر ایسے ہوں بلکہ ہیں جن میں نام کا بھی کوئی احمدی نہیں مخلص ہونا تو الگ رہا۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ کئی شہر ایسے ہوں جن میں احمدی تو ہوں لیکن مخلص نہ ہوں۔ لیکن لاہور کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو اللہ تعالیٰ نے جو خبر دی اُس میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہاں مخلص ہیں ۔ پس جہاں یہ ناممکن بار جو خبر دی یہ گیا ۔ ہے کہ ہم کسی شہر کے متعلق یہ خیال کر لیں کہ وہاں غیر مخلص کا ہونا نا ممکن ہے وہاں لاہور کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ یہاں سلسلہ احمدیہ کی زندگی کے دوران میں کسی وقت سب غیر مخلص ہو سکتے ہیں قطعی طور پر غلط ہے ۔ اور شہروں میں ہو سکتا ہے کہ مخلص لوگ نہ ہوں لیکن لاہور کے متعلق بات