خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 386

1948ء 386 خطبات محمود یہ بر بلکہ اس جماعت کے سامنے اُسے ظاہر کر دیا ہے جس سے وہ اپنا تعلق بتاتا اور جس پر وہ اپنا بھروسہ ظاہر کرتا ہے اور تا اُس کو یہ بھی معلوم ہو جائے کہ اُس نے جو کچھ لکھا ہے خود اس جماعت کے افراد اس سے اختلاف رکھتے اور اُس کے اس رویہ پر سخت نفرت کا اظہار کرتے ہیں ۔ میں نے یہ بات ایسے رنگ میں بیان نہیں کی تھی کہ میں اُس کے اس فعل کو لاہور کی جماعت کی طرف منسوب کروں یا اس بارہ میں جماعت کو کسی قسم کی تنبیہ کروں بلکہ صرف اُس کے خیالات کو بیان کرنے پر میں نے اکتفا کیا تھا اور اس نقطہ نگاہ کو واضح کیا تھا کہ سلسلہ احمدیہ کے مقابل پر کھڑا ہونے کی کوئی شخص طاقت نہیں رکھتا۔ میرا مقصد بتانا تھا کہ اُس شخص کو معلوم ہو جائے کہ اُس کی بات اپنے اندر کتنا وزن رکھتی ہے اور جماعت میں اس کے متعلق کیا جذبات پائے جاتے ہیں ۔ اس کے بعد لاہور کی جماعت کی طرف سے مجموعی طور پر بھی اور بعض لوگوں کی طرف سے انفرادی رنگ میں بھی خطوط ملے ہیں کہ وہ اس شخص کے خیالات کے متعلق سخت اظہار نفرت کرتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں اس کی بھی چنداں ضرورت نہیں تھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک جماعتیں ترقی کی طرف اپنا قدم بڑھائے چلی جاتی ہیں اُس وقت تک فتنہ انگیز لوگ اپنی کارروائیوں میں کامیاب نہیں ہوا کرتے۔ قطع نظر اس سے کہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے ۔ ہماری جماعت میں ایسے ایسے افراد اور جتھوں نے بھی فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جو جماعت میں اثر رکھتے تھے لیکن ان کے فتنے اور ان کی شورشیں اکثر انہی پر پڑیں اور وہ ہمیشہ ہی ناکام رہے۔ یہ جو میں نے کہا ہے کہ ان کی شورشیں اکثر انہی پر پڑیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ بعض لوگ کامیاب بھی ہوئے۔ بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ بعض کو ابھی خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا نہیں ملی آئندہ مل جائے گی۔ لیکن جہاں تک کسی فتنے کا تعلق ہے وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوا قطع نظر ان وعدوں کے جو خدا تعالیٰ نے میری ذات کے متعلق کیسے ہوئے ہیں یا قطع نظر ان وعدوں کے جو خدا تعالیٰ نے براہ راست مجھ سے کیے ہیں۔ اگر یہ وعدے نہ ہوتے تب بھی جماعت ابھی اس مشن کو پورا نہیں کر سکی جس کے لیے اسے قائم کیا گیا تھا اور جب تک کوئی جماعت اپنے مقصد کو پورا نہیں کر لیتی اس وقت تک وہ گرا نہیں کرتی۔ یہ ایک اصول ہے جو ہمیشہ قائم رہا اور اب بھی قائم ہے۔ ہاں جب وہ اپنے مقصد کو پورا کر لیتی ہے تو اس کے بعد اُس میں تنزل کے آثار پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس سے پہلے انفرادی تنزل آسکتا ہے، شخصی تنزل آسکتا ہے لیکن جماعتی خرابی اُس میں پیدا نہیں ہو سکتی بلکہ جماعت کے لحاظ سے