خطبات محمود (جلد 29) — Page 365
$1948 365 خطبات محمود وہاں مکان بنالیں۔انہوں نے زمین خرید لی ہے۔اصل چیزیں ہماری انسٹی ٹیوشنز ہیں اور یہی چیز ہے جس کی وجہ سے ہم نے گورنمنٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں الگ جگہ دی جائے کیونکہ ہمارے کالج وغیرہ جی جماعت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور جب تک وہ اکٹھی نہ ہو یہ نہیں چل سکتے۔ان سے فائدہ اٹھانے والے بھی قادیان والے ہی ہیں۔کالج ہے اس میں باہر کے طالب علم بھی داخل ہوتے ہیں مگر اکثریت قادیان والوں کی ہی ہوتی ہے۔سکولوں سے تو خصوصیت کے ساتھ قادیان والے ہی زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔پھر عورتوں کا ہوٹل ہے وہ بھی پہلے نہیں بن سکا تھا اب وہ بھی بنانا ہے۔قادیان میں سکول آبادی میں گھر گیا تھا اب جو جگہ ملی ہے اس میں لڑکیوں کا ہوٹل بھی بنایا جائے گا تا باہر کی لڑکیاں وہاں رہ سکیں اور تعلیم حاصل کر سکیں۔پس یہ غلط ہے کہ قادیان والوں کی حق تلفی ہوئی ہے اور انہیں اس سے حصہ نہیں ملا۔جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے دو ہزار کنال میں سے 1700 کنال قادیان کے دفاتر یا اُن افراد کوملی ہے جو قادیان میں رہتے تھے۔باقی تین سو کنال کے قریب باہر والوں نے خریدی ہے۔سراگر مشرقی پنجاب والے مہاجرین کا خیال رکھا جائے تو یہ نسبت اور بھی کم ہو جاتی ہے کیونکہ ان لوگوں کے پاس کوئی جگہ نہیں جہاں وہ رہ سکیں۔ان لوگوں نے بھی ایسی ہی جگہوں پر مکان بنانے ہیں تاسب بھائی اکٹھے رہ سکیں۔غرض اگر صحیح پڑتال کی جائے تو خیال ہے کہ وہ زمین جو مغربی پنجاب والوں نے خریدی ہے وہ بیس فیصدی سے بھی کم ہو جاتی ہے۔باقی جیسا کہ میں نے بتایا ہے شہر آپ ہی آپ نہیں بن جایا کرتا اُس میں سڑکیں بھی بنانی پڑیں گی۔اور جب سڑکیں بنیں گی تو اس کے لیے زمین بھی چاہیے۔پھر اسکول بنیں گے۔سکولوں کے بغیر بھی شہر نہیں بس سکتا۔کوئی شخص ایسی جگہ پر نہیں بسنا چاہتا جہاں اُس کے لڑکے تعلیم حاصل نہ کر سکیں اور سکول بغیر روپیہ کے نہیں بن سکتے۔اگر سکول بنائے جائیں گے تو خرچ بڑھ جائے گا اور وہ اسی زمین سے ہی نکالا جائے گا۔پھر آجکل کے زمانہ میں جب طب نے خوب ترقی کر لی ہے لوگ بغیر ہسپتالوں کے گزارہ نہیں کر سکتے اور ہسپتال بغیر روپیہ کے نہیں بن سکتے۔اگر ہسپتال بنیں گے تو خرچ بڑھ جائے گا تو اور وہ خرچ اسی زمین سے نکالا جائے گا۔پھر ریل، بجلی اور ڈاکخانہ کے بغیر بھی گزارہ نہیں ہو سکتا۔ان کے انتظامات کے لیے بھی روپیہ کی ضرورت ہے۔پھر گندے نالے نکالنے ہیں۔ان سب انتظامات کے لیے دوڑ دھوپ پر بھی خرچ ہو رہا ہے۔جب یہ انتظامات کیے جائیں گے تو لا زمازمین کی قیمت بڑھ