خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 366

$1948 366 خطبات محمود جائے گی۔پھر قادیان کی آبادی ایسی تھی کہ وہاں پانی کا کوئی خاص انتظام نہیں کرنا پڑتا تھا ، وہاں بجلی بھی تھی اس جگہ پانی کا انتظام بھی کرنا ہے۔جتنے کنویں اب تک نکلے ہیں اُن سے نمکین پانی ہی نکلا ہے۔کافی کوشش کے بعد ایک کنویں سے میٹھا پانی نکلا تھا مگر جیسا کہ الفضل کی ایک رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ وہاں چند افسر آئے اور اگر چہ پانی نمکین تھا مگر انہوں نے پیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ رپورٹ جو مجھے دی گئی تھی کہ میٹھا پانی نکل آیا ہے غلط تھی۔ایک ماہ سے لوگ اس کام پر لگے ہوئے ہیں۔وہ پانی کے لیے کھدائی کر رہے ہیں، جد و جہد جاری ہے۔کبھی ایک جگہ پر زمین کھودی جاتی ہے پانی نمکین نکلتا ہے تو پھر دوسری زمین کھودی جاتی ہے پانی نمکین نکلتا ہے پھر اُس سے سو سو ، دودوسو ، تین تین سو اور چار چار سوفٹ پر جگہ کھودتے ہیں۔یہ کام ہر ایک فرد تو نہیں کر سکتا۔آخر اس پر بھی جماعت کو خرچ کرنا ہوگا ہی اور وہ اپنی جیبوں سے تو نہیں کرے گی۔یہ خرچ بھی سکان کو ہی ادا کرنا ہوگا۔اگر جماعت خرچ کرے گی ، کھدائیاں کرائے گی ایک جگہ پر نمکین پانی نکلے گا تو اور نیچے کھدائی کرائے گی۔پھر پانی خراب نکلے گا اور نیچے کھدائی کرائے گی۔پھر بھی اگر پانی خراب نکلے گا تو وہ جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ کھدائی کرائے گی، تیسری جگہ کھدائی کرائے گی، چوتھی جگہ کھدائی کرائے گی یہ خرچ بھی سکان کو ہی ادا کرنا ہوگا۔چار جگہ پر تو اب تک کھدائی ہو چکی ہے ممکن ہے کہ بیس پچپیس یا پچاس جگہ پر کھدائی ہو۔پھر ان کنوؤں سے پانی نکالنا بھی کوئی معمولی کام نہیں۔اس پر بھی روپیہ خرچ آئے گا اور کافی روپیہ خرچ آئے گا اور روپیہ ساکنین کو ہی دینا ہوگا۔اور یہ دو طرح ہی ہو سکتا ہے۔ایک تو اس طرح کہ سب زمین خرید نے والوں سے کہا جائے کہ وہ ہزار ہزار ، دو دو ہزار روپیہ بطور ٹیکس دے دیں اور یا پھر یہ زمین کی قیمت سے وصول کیا جائے۔یہ ساری چیزیں روپیہ خرچ کرنے سے ہی بنیں گی۔نہیں تو نہیں بنیں گی۔اس لیے زمین کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے اور یہ ساکنین کے نفع اور فائدہ کے لیے ہی ہے۔اگر ساری زمین بھی فروخت ہو جائے پھر بھی چھ سات لاکھ روپیہ کے قریب انجمن کو اور خرچ کرنا ہوگا۔قادیان پچاس سال میں بنا تھا۔پھر اس کا قائمقام چند دنوں میں بغیر مالی بوجھ کے کیسے بن سکتا ہے؟ آہستہ آہستہ خرچ اگر چہ زیادہ ہو جاتا ہے مگر وہ محسوس نہیں ہوتا۔مثلاً شادی پر جتنا روپیہ لگ جاتا ہے اس سے کہیں زیادہ بچوں کی پرورش پر لگ جاتا ہے۔مگر اس کا پتہ بھی نہیں لگتا۔اُس وقت جب آٹا گوندھا جاتا ہے تو مٹھی بھر ایک بچہ کی طرف سے ڈال لیا جاتا ہے اور مٹھی بھر ایک بچہ کی طرف سے ڈال لیا جاتا ہے۔