خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 363

1948ء 363 خطبات محمود ساری طاقت اور قوت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی آتی ہے ہے۔ جب خدا تعالیٰ کی محبت کمزور ہو جاتی ہے تو باقی کاموں میں بھی کمزوری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ سو میں دوستوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اگر وہ احمدیت سے واقع واقع میں فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں بلکہ کہتا کہتا ہوں اگر وہ واقع میں مہ موت کے بعد سے واقع میں فائدہ اٹھانا جانتے ہیں بلکہ کتا ہوں اگر وہ واقع میں ما نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں نمازوں کی سختی سے پابندی کرنی چاہیے ۔ یہ حُسنِ ظنی رکھ لینا کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لے آئے ہیں یا کچھ چندے دے دیتے ہیں اور وہ بھی کانے چندے ہوتے ہیں ، اس کے ساتھ ہم جنت کو حاصل کر لیں گے یہ بے وقوفی اور حماقت ہے۔ جنت میں چلے جانا معمولی بات نہیں۔ جنت میں جانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان موت قبول کرلے۔ اور یہ تو ایک چھوٹی سے چھوٹی موت ہے جو اس موت کو قبول کر لیتا ہے اور پانچ وقت سوائے معذوری کے نماز با جماعت ادا کرتا ہے اور اپنی اولاد اور خاندان کے دوسرے ممبروں کو بھی نماز کی طرف توجہ دلاتا رہتا ہے تو وہ پہلی قربانی پیش کرتا ہے۔ اس کے بعد اُسے مزید قربانی کی توفیق مل جاتی ہے۔ اس کے بعد میں اس مضمون کی طرف دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں جو میں نے گزشتہ جمعہ میں بیان کیا تھا یعنی ربوہ کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔ میرا تو خیال تھا کہ میرا خطبہ اتنا واضح ہے کہ اس سے لوگوں کے شکوک دور ہو گئے ہوں گے اور ان کی اصلاح ہوگئی ہو گی مگر معلوم ہوا ہے کہ اس سے لوگوں کے اندر اور بھی وہم پیدا ہو گیا ہے۔ یہ تو وہی بات ہے يُضِلُّ مَنْ يَّشَاءُ وَيَهْدِى مَنْ یشَاء 1 وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے۔ مثلاً اس خطبہ میں میں نے یہ بیان کیا تھا کہ قادیان کے لوگوں نے اس طرف اتنی توجہ نہیں کی جتنی توجہ انہیں کرنی چاہیے تھی۔ میرا اس سے یہ منشا تھا کہ میں قادیان والوں کی رگ حمیت کو بھڑ کاؤں لیکن صدرانجمن احمد یہ کے وہ کا رکن جن کے پاس ریکارڈ ہمیشہ رہتا ہے صرف عارضی طور پر دیکھنے کے لیے میں اُن سے منگواتا ہوں پھر وہ واپس انہی کے پاس چلا جاتا ہے۔ ان میں بھی بعض شبہات پیدا ہو گئے ہیں اور انہوں نے بعض اعتراضات کیے ہیں۔ نظارت کے ارکان جن کے سامنے سارا ریکارڈ رہتا ہے اگر ان میں سے بعض اپنے کاغذات بھی نہیں پڑھ سکتے تو پھر اس سے زیادہ افسوس کی بات اور کیا ہوگی؟ صدرانجمن احمد یہ کے ایک افسر نے مجھے لکھا ہے کہ قادیان والوں کی بہت زیادہ حق تلفی ہوئی ہے اور اُن کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ حالانکہ یہ بات سراسر غلط ہے۔ قادیان والوں کی کوئی حق تلفی نہیں ہوئی۔ میں نے