خطبات محمود (جلد 29) — Page 362
$1948 362 خطبات محمود اس محلہ کے رہنے والے احمدیوں میں سے بعض ایسے ہیں جو بہت ہی پرانے احمدی ہیں۔مجھے میاں چراغ دین صاحب مرحوم کی بات یاد ہے۔وہ سنایا کرتے تھے کہ ان کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اتنے پرانے تعلقات تھے کہ وہ میری پیدائش کے موقع پر جو آپ کے دعوای مسیحیت سے دوسال قبل ہوئی میرے عقیقے پر قادیان گئے تھے۔آپ سنایا کرتے تھے کہ اُس دن اتنی سخت بارش ہورہی تھی کہ اس کی وجہ سے ہم راستہ میں رک گئے۔پانی بہت زیادہ چڑھ گیا تھا جس کی وجہ سے راستہ بند ہو گیا تھا۔ہم میں سے بعض کوشش کر کے قادیان پہنچ گئے اور بعض کو واپس کو ٹنا پڑا۔گویا اس خاندان کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تعلق ساٹھ سال سے بھی زیادہ عرصہ کا ہے۔ایسے خاندان کو تو روز بروز اپنے روحانی تعلقات میں بڑھنا چاہیے تھا نہ یہ کہ بجائے ترقی کرنے کے وہ آگے سے بھی گر جاتے۔نماز تو ایسی چیز ہے کہ اس کے بغیر انسان کے اندر دین پیدا ہی نہیں ہوتا۔جو شخص سوائے معذوریوں کے نماز با جماعت ادا کرنے کی کوشش نہیں کرتا یا جو بالکل نماز نہیں پڑھتا وہ کسی صورت میں بھی مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں ہوسکتا۔یہ چیز در اصل انسان کی ہمت پر مبنی ہوتی ہے۔اگر کوئی شخص ہمت کر لیتا ہے اور فیصلہ کر لیتا ہے کہ اس نے فلاں کام کرنا ہے تو وہ کر لیتا ہے۔پس پہلے تو میں اس محلہ کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ نماز باجماعت ادا کیا کریں اور مسجد کو آباد کرنے کی کوشش کریں۔اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص یہ کام اپنے ذمہ لے لے کہ وہ لوگوں کو ترغیب دلا کر مسجد میں لایا کرے گا۔اور خواہ اسے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر ہی لانا پڑے وہ انہیں لا لا کر نماز باجماعت ادا کروائے یہاں تک کہ انہیں نماز کی چاٹ پڑ جائے۔چاٹ پڑنے کے بعد اگر کوئی ان سے یہ کام چھڑوانا بھی چاہے گا تو وہ نہیں چھوڑیں گے۔اس کے بعد میں دوسرے محلے کے لوگوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں۔مجھے اطلاع ملی ہے کہ بعض محلوں میں نماز باجماعت کا کوئی انتظام نہیں۔محلے کی جماعت نے کوئی ایسا کمرہ مقررنہیں کیا جس میں روزانہ نماز با جماعت ادا کی جائے۔اور جن محلوں میں مسجد میں ہیں ان میں بھی دس فیصدی کے قریب لوگ نماز پڑھنے آتے ہیں باقی نہیں آتے۔میں بھی حیران تھا کہ جماعت لاہور کی بعض معاملات میں کمزوری کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ خدائی تعلق کی طرف سے غفلت برتی جاتی ہے اور جب خدائی تعلق ہی نہ رہے تو محبت آپ ہی آپ ختم ہو جاتی ہے۔اصل منبع تو خدا تعالیٰ کی محبت ہے۔