خطبات محمود (جلد 29) — Page 354
خطبات محمود نہیں کر سکتیں۔ 354 1948ء پھر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ عارضی چیزوں کے لیے زیادہ خرچ نہیں کرنا چاہیے اُنہیں خود اگر کراچی جانا جانا ہوتا ہے تو تو اس اس چوبیس گھنٹے گھنٹے کے سفر کے کے لیے لیے وہ وہ بجائے تھر تھرڈ کے کے انٹر انٹر یا یا سیکنڈ کا کا ٹکٹ لیے لیتے ہیں بلکہ وہ اپنے نفس کے آرام کے لیے دو گھنٹے کے سفر کے لیے بھی تھرڈ کا ٹکٹ نہیں لیتے تا کام بھی جلد ہو جائے اور نفس کو آرام بھی رہے۔ لیکن جب خدا تعالیٰ کا سوال آتا ہے تو کہہ دیتے ہیں آٹھ سال آوارہ پھرو۔ اگر عارضی چیز کوئی چیز نہیں تو تم انٹر اور سیکنڈ کلاس میں سفر کیوں کرتے ہو؟ اگر تم اس طرح سفر کرنے کو نفس کے آرام کے لیے ضروری سمجھتے ہو تو سلسلہ کے آرام کے لیے ان اخراجات کے کرنے کی کیوں ضرورت نہیں؟ یہ تو ایک واقعہ ہے جو شخص اس کی اہمیت اور عظمت کو جانتا ہے اور اس کی برکتوں کو جانتا ہے اسے اگر دس مرتبہ بھی مرکز چھوڑنا پڑے تو وہ اس کی کوئی پروا نہیں کرے گا۔ فرض کرو ہم ربوہ میں جائیں اور وہاں شہر بنائیں۔ پھر ہمیں کہا جائے کہ یہ جگہ چھوڑ دو اور یہاں سے چلے جاؤ تو پھر بھی ہم یہ نہیں کہیں گے کہ چونکہ ہم دو دفعہ اُجڑ چکے ہیں اس لیے ہم کوئی اور جگہ نہیں بنائیں گے بلکہ ہم تیسرا شہر بسالیں گے۔ اور اگر وہاں سے بھی نکال دیئے جائیں گے تو ہم چوتھا شہر بسا لیں گے۔ اور اگر وہاں سے بھی نکال دیئے جائیں اور ہمیں جنگل میں جانا پڑے تو ہم وہاں بھی شہر ہی بسائیں گے آوارہ نہیں پھریں گے۔ وو ہمارے اندر تو دین ہے۔ بابر دنیا دار اور شراب خور تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ ترک 2 میں اس نے اپنی شراب خوری کا بھی ذکر کیا ہے۔ گومیں نے نہیں پڑھا۔ اس کے متعلق مشہور ہے کہ جب اُس کی قبائل سے لڑائی ہوئی تو اسے بار بار شکست ہوئی ۔ گیارہ بار شکستیں کھا جانے کے بعد اس نے اپنے اتھیوں سے کہا اب کیا کرنا ہے۔ اب تم اپنے اپنے گھر چلے جاؤ۔ اس نے اُن سب کو بھیج دیا۔ ایک دن وہ پاخانہ میں گیا۔ وہاں ایک چیونٹی آگئی جو گندم کا ایک دانہ لے کر دیوار پر چڑھ رہی تھی۔ تھوڑی دیر جوگندم دانہ لے پر میں وہ گر گئی۔ وہ دوبارہ چڑھنے لگی لیکن پھر گر گئی۔ اس طرح وہ چالیس سے زیادہ دفعہ گری۔ آخر غالب آئی اور اپنے منزل مقصود پر پہنچ گئی۔ بابر کو یہ واقعہ پسند آیا۔ وہ پاخانہ سے باہر نکلا اور اُس نے اپنے ساتھیوں کو پھر جمع کیا اور کہا پہلے غلطی ہو گئی تھی آؤ پھر کوشش کریں۔ ہم ضرور فتح پائیں گے۔ چنانچہ بارھویں دفعہ اُس نے پھر حملہ کیا اور وہ سارے ہندوستان کا بادشاہ بن گیا۔