خطبات محمود (جلد 29) — Page 353
$1948 353 خطبات محمود اور وہاں ہسپتال نہ ہو تو لوگ وہاں کیسے رہیں گے ؟ سکول اور کالج نہ ہوں تو وہاں رہنے والوں کو دلجمعی کہاں ہوگی؟ اور پھر قوم کے لڑکے علم حاصل کیسے کریں گے؟ ڈاکخانہ نہ ہو تو تبلیغ کیسے ہوگی؟ تاریں بند ہوں تو ملک کے حالات جلدی جلدی کیسے معلوم کیے جاسکتے ہیں؟ ریل نہ ہو تو لوگ وہاں کیسے پہنچیں گے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بے شک یہ الہام تھا کہ لوگ تیرے پاس اتنی کثرت سے آئیں گے کہ زمین گھس جائے گی۔1 لوگ کثرت سے آئے اور وہ گھس بھی گئی لیکن وہاں کتنے آدمی چل کر آئے تھے؟ آخری جلسہ سالانہ پر صرف سات سو آدمی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب سیر کے لیے گئے تو ہجوم کی ٹھوکروں سے پاؤں سے جوتی نکل جاتی اور سوئی گر گر جاتی تھی۔آپ ریتی چھلے تک گئے اور پھر واپس آگئے۔آپ نے فرمایا نبی اُس وقت تک دنیا میں رہتا ہے جب تک وہ اپنے سلسلہ کی بنیاد قائم نہیں کر لیتا۔اب ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا کام ختم ہو گیا ہے۔اور آپ اگلے سال فوت ہو گئے۔بہر حال آخری جلسہ پر صرف سات سو آدمی تھے لیکن ریل کے بعد وہاں آنے والوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی تھی کہ پچھلے سے پچھلے سال جو ہمارا جلسہ ہوا ہے اُس میں باہر سے آنے والوں کی تعداد تھیں ہزار سے اوپر تھی۔اور یہ وہ تعداد ہے جو ریل والوں نے بتائی تھی کہ اتنے آدمی ریل کے ذریعہ سے یہاں پہنچے ہیں۔اردگرد کے علاقہ سے دوسرے ذرائع سے وہاں پہنچنے والوں کی تعداد الگ تھی۔ان کی سہولتوں کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اُن ضروریات کو مہیا کیا جائے۔اور ضروریات کا مہیا کرنا اُن لوگوں کا کام ہے جو اُس شہر میں رہیں گے۔متذبذب اور مترد دلوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ شاید قادیان کل ہی مل جائے۔اگر ہمیں قادیان مل جائے تو نئے مرکز کی کیا ضرورت ہے۔قادیان کل تو کیا میں کہتا ہوں آج ہی مل جائے۔لیکن ” ملے گا اور مل جائے گا میں بہت بڑا فرق ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کے بعد آٹھ سال تک انتظار کرنا پڑا۔آٹھویں سال جا کر مکہ فتح ہوا۔فرض کرو ہمیں بھی آٹھ سال لگ جائیں تو پھر کیا ہوا ہمیں ابھی ایک ہی سال ہوا ہے اور ہمارے سینکڑوں طالبعلم آوارہ ہو گئے ہیں۔ان کے والدین تلاش مکان میں نکل گئے اور وہ آوارہ ہو گئے۔اب اگر خدا تعالیٰ نے ہمارے لیے بھی آٹھ ہی سال مقرر کیسے ہوں تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ ہم اگلی ایک نسل کو آوارہ اور تباہ کر دیں؟ پھر آٹھ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد نئے سرے سے جماعت کو بنانا نہایت مشکل ہے۔مرکز رکھنے والی جماعتیں ایک دن بھی مرکز کے بغیر ترقی