خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 352

1948ء 352 خطبات محمود کی کیا ضرورت ہے؟ میں نے انہیں یہی کہا تھا کہ یہ انتظام اس لیے کیا گیا ہے تا ہمارے تعلقات دوسرے شہروں سے زیادہ ہوں ۔ جب تار کا بندو بست کیا گیا اور گورنمنٹ نے کہا کہ ہمیں گارنٹی دو کہ یہاں کافی آمد ہو گی اُس وقت بھی کئی لوگ یہ کہتے تھے بھلا اس کی کیا ضرورت ہے؟ میں نے انہیں بھی یہی جواب دیا تھا کہ یہ انتظام اس لیے کیا جا رہا ہے تا ا رہا ہے تا دوسرے شہروں سے ہمارے تعلقات تعلقات زیادہ ہوں۔ میں نے وہ گارنٹی جبراً دلوائی تھی لیکن پہلی ششماہی میں ہی گورنمنٹ نے کہہ دیا تھا کہ آمدن زیادہ ہو رہی ہے اس لیے گارنٹی واپس لے لو۔ بہر حال ہمیں اس جگہ کو بھی شہر کی صورت میں بدلنا ہوگا تا کہ لوگ اس میں رہ سکیں۔ آخر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنی اولاد کو وادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ میں ہی بسایا تھا اور یہ آپ کی بڑی قربانی کی تھی۔ اُس وقت آپ نے خدا تعالیٰ سے یہ نہیں کہا تھا کہ اے خدا! یہاں گندم نہیں ہوتی تو انہیں گندم دے، یہاں جانوروں کے لیے چارہ نہیں پیدا ہوتا تو انہیں چارہ دے۔ بلکہ آپ نے کہا اے خدا ! تو انہیں پھل کھلا ، ایسا انتظام کر کہ یہاں کیلا ، انار ، انگور اور دوسرے پھل پہنچیں ۔ آپ نے یہ نہیں کہا اے خدا! اُرْزُقُهُمْ بِالْحِنْطَةِ تو انہیں گندم کھلا ارْزُقُهُمُ بِالشَّعِيرِ تو انہیں جو کھلا ۔ بلکہ آپ نے کہا کہ اے خدا! تو انہیں کھانے کو پھل دیجیو۔ آپ میں چونکہ اس کی طاقت نہیں تھی اس لیے آپ نے خدا تعالیٰ سے کہا اے اللہ ! مجھ میں تو طاقت نہیں تو یہ چیزیں مکہ میں لا۔ میں نے جو پھل مکہ میں کھائے ہیں وہ کسی اور جگہ نہیں کھائے ۔ گنا دیکھو کتنا وزنی ہوتا ہے اور اس کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا مشکل ہوتا ہے مگر میں نے وہاں گنا کھایا ہے اور وہ نہایت لذیذ تھا۔ میں نومبر میں حج کے لیے گیا تھا اور شاید دسمبر میں یا نومبر کے آخر میں حج ہوا تھا۔ پھر میں نے وہاں انار کھائے ہیں جو کسی اور جگہ نہیں کھائے ، انگور کھائے ہیں جو کسی اور جگہ نہیں کھائے ۔ وہ نہایت ہی شیریں تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے یہی دعا کی تھی اے خدا ! میں اپنی اولاد کو یہاں بسا رہا ہوں تو اس جگہ کو اتنا آرام دہ بنا دے کہ وہ انار اور انگور وغیرہ پھل کھایا کریں۔ غرض جب بھی کوئی شہر بسایا جائے گا ، جب بھی کوئی مرکز بنایا جائے گا تو اُس کے لیے ایسے سامان مہیا کیے جائیں گے جو اس سے وابستگی کا موجب ہوں اور اس کے دوسری دنیا سے تعلقات ہوں۔ وہاں رہنے والوں کے لیے دلجمعی کے سامان بہم پہنچائے جائیں گے۔ فرض کرو ملیریا ہو جائے