خطبات محمود (جلد 29) — Page 349
$1948 349 خطبات محمود سارے انتظامات شہر کے باشندے کرتے ہیں اور اس پر وہی خرچ کرتے ہیں۔ربوہ کی آبادی پر کم از کم خرچ کا ابتدائی اندازہ ساڑھے تیرہ لاکھ ہے ( بعد میں شہر کی تکمیل پر غالباً پندرہ بیس لاکھ اور خرچ ہوگا ) اور جو زمین فروخت ہوگی وہ ساری نہیں جو لوگ یونہی ہزار ایکڑ کے متعلق قیاس لگا لیتے ہیں اور اسے آٹھ یا نو کے ساتھ ضرب دے دیتے ہیں اُن کا قیاس صحیح نہیں۔شہر ساری جگہ پر آباد نہیں ہوگا۔اس میں کھیلنے کے لیے بھی جگہ خالی رکھنی ہوگی ، ہوا کے لیے بھی جگہ خالی رکھنی ہوگی ،سڑکیں بھی بنانی ہوں گے۔اب جو نقشہ تیار کیا گیا ہے اُس میں محض سڑکوں کے لیے تمیں فیصدی زمین مخصوص کر دی گئی ہے۔ایک ہزار ایکڑ زمین میں سے اگر تین سوا یکٹر ز مین سڑکوں کے لیے نکل جائے تو باقی سات سو ایکڑ زمین رہ جاتی ہے۔پھر اڑھائی سوا یکٹر سفید زمین چھوڑ دی جائے گی۔کیونکہ یہ گورنمنٹ کا قانون ہے۔یہ کل ساڑھے پانچ سوا یکڑ ہوئی۔پھر سکولوں اور ہسپتالوں کے بغیر بھی شہر نہیں چل سکتا۔اگر ہسپتال نہ ہوں تو بیمار تڑپ تڑپ کر ہی مر جائیں۔سکول نہ ہوں تو بچوں کی عمریں ضائع ہو جائیں۔ان سکولوں، کالجوں اور ہسپتالوں کے لیے بھی ڈیڑھ دو سوا یکٹر کی ضرورت ہوگی۔ساڑھے پانچ سو ایکڑ پہلے تھی اور ڈیڑھ سوا یکٹر یہ ہوئی۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ہزارایکٹر میں سے سات سوا یکڑ نکل گیا اور صرف تین سو ایکڑ باقی رہ گیا۔بلکہ حقیقتاً اڑھائی سوایکڑ کے قریب زمین باقی رہ جاتی ہے اور اگر اسے سو روپے فی کنال کی شرح سے فروخت کیا جائے تو اڑھائی لاکھ کی آمد ہوسکتی ہے۔باقی گیارہ لاکھ کے اخراجات کون برداشت کرے گا۔کیا جو شہر میں نہیں رہیں گے اُن سے یہ اخراجات لیے جائیں گے اور اُن سے کہا جائے گا کہ یہ اخراجات تم برداشت کرو؟ بے شک بعض مصلحتوں کی وجہ سے ہم ایسا کہہ بھی سکتے ہیں مگر اخراجات کا زیادہ بوجھ بہر حال شہر والوں پر ہی پڑنا چاہیے نہ کہ باہر والے لوگوں پر گل اخراجات کا کم از کم ساڑھے تیرہ لاکھ کا اندازہ ہے۔اس میں سے اڑھائی لاکھ شہر والے دیں اور گیارہ لاکھ باہر والے دیں۔تو یہ بے انصافی کی تقسیم ہوگی۔لازماً اخراجات کا بوجھ شہر والوں پر پڑے گا۔جب اوسط قیمت پانچ سو روپے فی کنال ہو تب جا کر یہ اخراجات پورے ہوتے ہیں۔اگر پانچ سوروپیہ فی کنال کی شرح سے یہ زمین بیچی جائے تو پھر جا کر یہ ساڑھے تیرہ لاکھ بنتا ہے۔لیکن چونکہ سوا سوا یکڑیا سوروپیہ کنال پر فروخت ہوئی ہے یا غرباء کو مفت دی گئی ہے مزید قابلِ فروخت زمین سترہ سو کنال رہ جاتی ہے جس میں سے چار سو کنال اور سستے داموں دی گئی ہے۔اس لیے تیرہ سو کنال