خطبات محمود (جلد 29) — Page 348
$1948 348 خطبات محمود ہیں؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ساری زمین کے خریدار آجائیں تب بھی اعلان ختم ہو جائے گا اور اگر کسی تاریخ مقررہ گزر جائے گی خواہ ساری زمین کے خریدار آئیں یا نہ آئیں تب بھی وہ اعلان ختم ہو جائے گا۔اب قانون کے مطابق نئی قیمت مقرر ہے جو اس قیمت پر زمین لینا چاہے وہ لے سکتا ہے۔ورنہ پرانی قیمت پر یہ زمین اب نہیں مل سکتی۔یہ تو حسابی لحاظ سے میں نے کہا ہے۔اب عقلی لحاظ سے کچھ کہتا ہوں۔یہ قیمت تو ایسی تھی جیسے کوئی مچھلی پکڑنے والا یونہی بہت سا آٹا ڈال دیتا ہے یا بوٹی پھینک دیتا ہے کنڈی نہیں لگاتا۔اس طرح مچھلیاں آتی ہیں اور وہ اُس آٹے کو کھاتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ یہاں کوئی خطرہ نہیں، مفت میں آٹا گوشت کھانے کو ملتا ہے۔اس طرح وہ انہیں پہلے عادت ڈال لیتا ہے۔دوسری دفعہ وہ کنڈی بھی ساتھ لگا دیتا ہے۔مچھلی اپنی عادت کے مطابق آتی ہے اور اُس میں پھنس جاتی ہے۔اسی طرح نیا شہر بسانے کے لیے لوگ خواہ کتنے ہی ایماندار ہوں فوراً تیار نہیں ہوتے۔اس لیے ضرورت ہوتی ہے کہ ایسے مومنوں کو آگے نکالا جائے جو ہر قربانی کرنے کے لیے تیار ہوں اور اپنے مال کے ہر ضیاع کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں۔اس لیے ہم نے بھی پہلے اس قسم کا اعلان کر دیا۔یہ آزمائش تھی تا معلوم ہو جائے کہ کون یہ یقین رکھتا ہے کہ اُس کا ایسا کرنا موجب برکت ہے اور کون تردد کرتا ہے اور سوچتا رہتا ہے کہ میں جاؤں یا نہ جاؤں۔بلاشبہ جو شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ یہ کام میرے لیے موجب برکت ہے وہ مستحق ہے رعایت کا ، وہ مستحق ہے السَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ میں شامل ہونے کا۔اور جو شخص تر ڈر کرتا ہے اور سوچتا رہتا ہے کہ میرا امال ضائع نہ ہو جائے۔یا فرض کرو اُس کا مال ضائع ہی ہو جائے اور اُسے اس کے ضائع ہو جانے پر افسوس ہو۔یا وہ خیال کرے کہ اب وہ اتنی رقم کہاں سے لائے گا وہ نہ حقدار ہے رعایت کا اور نہ حقدار ہے السَّابِقُونَ الْاَوَّلُونَ میں شامل ہونے کا۔غرض درجہ بدرجہ قربانیوں کے ساتھ رعایت آتی ہے۔یہ تو سیدھی سادھی بات ہے کہ جو شہر بھی بسایا جاتا ہے اُس سے فائدہ اٹھانے والے ہی اُس کے اخراجات کو برداشت کرتے ہیں۔مثلاً لاہور کے قریب ماڈل ٹاؤن آباد ہوا ہے کیا آپ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کے اخراجات کے لیے لاہور پر کوئی ٹیکس پڑا تھا ؟ نہیں۔بلکہ شہر والوں نے اس کے تمام اخراجات کو برداشت کیا اور یہ ایک شہر بن گیا۔امریکہ میں سینکڑوں اور ہزاروں شہر ایسے آباد ہوئے ہیں۔سوسائٹیاں قصبات بنا دیتی ہیں اور ان کے