خطبات محمود (جلد 29) — Page 347
1948ء 347 خطبات محمود ہو جائے گا۔ ان دونوں چیزوں میں سے جو چیز بھی پہلے ختم ہو جائے گی وہ اس اعلان کو بند کر دے گی۔ اگر 800 کنال پوری ہو جائے اور تاریخ مقررہ میں کچھ دن باقی ہوں تو اعلان بند سمجھا جائے گا۔ اور اگر تاریخ مقررہ آجائے اور ) ئے اور 800 کنال پوری نہ ہوئی ہو مثلاً اگر 500 کنال کی درخواستیں آئی ہوں اور پندرہ تاریخ آجائے تو پندرہ تاریخ اس اعلان کو بند کر دے گی۔ یہ عرف عام کا ایک طریق ہے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ جو نہی وقت ختم ہوا ہے درخواستیں زیادہ آنی شروع ہو گئی ہیں۔ بعض دفعہ لوگ رات کو بھی آکر میرا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور کہتے ہیں حضور ! وقت ختم ہو گیا ہے، ہم پہلے قیمت ادانہیں کر سکے، ہمیں یہ یہ مشکل پیش آگئی تھی ۔ آپ ہماری سفارش کر دیں کہ ہمارا نام بھی ایک سو روپے کنال والی شرح میں شامل کر دیا جائے ۔ اور بعض لوگوں نے تو یہاں تک شکایت کی ہے کہ پندرہ اکتوبر کیوں کہا گیا تھا ؟ میں نے اُنہیں جواب دیا ہے کہ صرف پندرہ اکتو بر ہی نہیں کہا گیا تھا بلکہ اعلان میں دو شرطیں بیان کی گئی تھیں۔ اور اگر دو شرطیں بیان کی گئی ہیں تو وہ کچھ معنے رکھتی ہیں۔ یہ عرفِ عام کا طریقہ ہے اور یہ ہمیشہ ہوتا چلا آیا ہے۔ گورنمنٹیں ہمیشہ ہی یہ کرتی چلی آئی ہیں اور ہمیشہ ہی وہ ایسا کرتی ہیں۔ اگر روپیہ یا چیز ختم ہو جاتی ہے اور تاریخ باقی رہتی ہے تب بھی وہ اعلان ختم ہو جاتا ہے اور اگر تاریخ ختم ہو جاتی ہے تو چاہے وہ رقم آئی ہو یا نہ آئی ہو تب بھی وہ اعلان ختم ہو جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ گورنمنٹ پچاس کروڑ کے لیے اعلان کرے اور مقررہ تاریخ تک ہر درخواست منظور کرتی جائے خواہ رقم پچاس کروڑ سے بڑھ ہی جائے ۔ گورنمنٹ پچاس کروڑ کی رقم سے زیادہ جو درخواستیں ہوں گی انہیں رڈ کر دے گی۔ اور پھر اگر تاریخ ختم ہو جائے تو یہ نہیں ہوگا کہ جب تک رقم پوری نہ ہو جائے اعلان کو بڑھا دیا جائے بلکہ جب تاریخ ختم ہو جائے گی اعلان بھی ختم ہو جائے گا خواہ رقم پوری ہو یا نہ ہو۔ اسی طرح ہماری طرف سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ 800 کنال تک زمین فروخت کی جائے گی اور پندرہ اکتوبر تک جن کی درخواستیں آجائیں گی وہ یہ زمین خرید سکیں گے۔ اب اگر زمین کی مقرر کردہ مقدار پوری ہو جائے تب بھی یہ اعلان ختم ہو جائے گا اور اگر مقررہ تاریخ گزر جائے مقدار خواہ پوری ہو یا نہ ہو تب بھی یہ اعلان ختم ہو جائے گا۔ پس جن دوستوں کی طرف سے یہ شکایت کی گئی ہے وہ ان کی ناتجربہ کاری اور کم علمی کی وجہ سے ہے۔ جب دو شرطیں بیان کی گئی ہوں تو ایک بے وقوف سے بے وقوف انسان کی سمجھ میں بھی یہ چیز آجائے گی کہ اس کے کچھ معنی ہیں ۔ ورنہ ایک شرط کیوں نہ رکھی گئی دو شرطیں کیوں رکھی گئی