خطبات محمود (جلد 29) — Page 324
1948ء 324 خطبات محمود تجربہ نہیں تھا۔ میں تو اسے ناممکن سمجھتا تھا۔ میں نے پوچھا یہ کیسے ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ فلاں جگہ پر جو آپ کی زمین ہے آپ اسے بیچ دیجیے۔ لوگ مکانوں کے لیے خرید لیں گے۔ میں نے کہا ہماری جماعت کے لوگ غریب ہیں یہ کہاں خریدیں گے۔ انہوں نے کہا آپ مجھے اختیار دے دیجیے میں ابھی اسے فروخت کروا دیتا ہوں ۔ غالباً اُس وقت نوے روپیہ فی کنال زمین تجویز کی گئی تھی اور میں نے آٹھ ایکڑ زمین بیچنے کی اجازت دی مگر میں نے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ مجھے امید نہیں کہ یہ زمین یک جائے ۔ وہ کہنے لگے یہ تو ابھی بک جائے گی۔ میں اُس وقت گول کمرہ میں الفضل کے لیے ایک مضمون لکھ رہا تھا۔ میں نے دس بجے صبح کے قریب اپنے مختار کو بھیجا اور عصر کے قریب وہ ہاتھ میں روپوں کی تھیلیاں لے کر آگئے اور کہنے لگے زمین پک گئی ہے۔ اگر آپ اور جائیداد بیچنا چاہیں تو مجھے اجازت دے دیجیے میں اسے بھی بیچ دوں گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے محلہ دارالفضل کی بنیادیں قائم کی گئیں ۔ ہم نے یہ کام غالباً نوے روپے فی کنال پر شروع کیا تھا مگر بعد میں قاد بہ قادیان کی زمینیں ہیں ہیں ہزار روپیہ فی کنال کے حساب سے فروخت ہوئی ہیں۔ صدرانجمن احمد یہ نے ایک دفتر بنانے کے لیے زمین کا ایک ٹکڑا چالیس ہزار روپیہ فی کنال کے حساب سے خریدا تھا تو دیکھو کہاں سے کہاں نوبت پہنچ گئی۔ اگر یہ مسجد وسیع کر لی جائے تو اللہ تعالیٰ بھی کہے گا یہ لوگ ہم پر حُسنِ ظنی کرتے ہیں۔ چلو ہم بھی آدمی لاتے ہیں۔ پھر ہم اور مسجد وسیع کریں گے تو خدا تعالیٰ اور آدمی لائے گا ہم پھر مسجد وسیع کریں گے تو خدا تعالیٰ اور آدمی لائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جماعت اس وقت چار کنال زمین خرید لے ۔ پھر چار دیواری کر کے خواہ اس میں خیمے نصب کرلے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ زیادہ شاندار مسجد بنانے کی ضرورت نہیں ۔ میرا خیال ہے کہ جماعت دو ہزار روپے اور اکٹھے کرے تو وہ زمین نماز کے قابل ہو سکتی ہے۔ مسجد کے وسیع کر لینے سے یہی فائدہ نہیں ہوگا کہ نماز آرام سے ادا ہو جایا کرے گی بلکہ اس کا مزید فائدہ یہ ہوگا کہ جماعت جماعت میں خود بخود برکت پڑتی جائے گی ۔ اگر آپ لوگ سچے دل سے مسجد کو بڑھائیں گے تو خدا تعالیٰ بھی کہے گا میرے بندوں نے مجھ پر حسن ظنی کر کے مسجد کو بڑھایا ہے مگر ابھی جگہ خالی ہے۔ میرے بندوں کو شرمندگی نہ ہوئیں اور آدمی لاتا ہوں تا مسجد میں کوئی جگہ خالی نہ رہے۔