خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 316

$1948 316 خطبات محمود اور اُسی پر چندہ دیتا ہے۔بعض اوقات وہ اسی رقم میں سے تینتیس فیصدی چندہ دے کر دوسروں پر رعب بھی جما لیتا ہے لیکن درحقیقت تین سو روپیہ میں سے ننانوے روپے دینے کے معنے قریباً پونے پانچ فیصدی چندہ دینے کے ہوتے ہیں کیونکہ اس کی اصل آمد تو دو ہزار روپی تھی اور چندہ لکھواتے وقت اُس نے اپنی آمد تین سو روپیہ بتائی۔گویا چندہ تو وہ ایک آنہ فی روپیہ بھی نہیں دیتا لیکن ظاہر یہ کرتا ہے کہ وہ تینتیس فیصدی چندہ دیتا ہے۔یہ طریقہ تو ایسا ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی ملاں تھا احادیث میں اُس نے یہ مسئلہ پڑھا کہ اگر کسی کی کوئی ایسی چیز ضائع ہو جائے جو اپنی حفاظت خود نہ کر سکتی ہو تو جس شخص کو وہ چیز مل جائے وہ اُسے لے لے اور تین بار لوگوں میں اعلان کرے۔اگر پھر بھی اُس چیز کا مالک نہ مل سکے تو وہ چیز اُسی کی ہو جاتی ہے۔وہ ملاں روزانہ سیر کے لیے نکل جاتا۔جنگل میں بھیڑ بکریوں کے گلے چر رہے ہوتے تھے اور عموماً کچھ بھیڑ بکریاں گلے سے پیچھے رہ جاتی ہیں۔وہ ملاں تاک میں رہتا رپیچھے رہ جانے والی بکری کو پکڑ لیتا اور کہتا کہ " کسی کی بکری"۔" کسی کی " کے الفاظ وہ زور سے کہتا " بکری" کے لفظ کو وہ آہستہ سے کہ دیتا۔بکریوں والے کو یہ خیال بھی نہیں آتا تھا کہ یہ اس کی بکری کے متعلق اعلان ہورہا ہے۔تین دفعہ اعلان کرنے کے بعد وہ ملاں بکری گھر لے آتا اور بسم الله، اللهُ اَكْبَرُ کہہ کر ذبح کر لیتا اور سمجھ لیتا کہ اس طرح تین بار اعلان کرنے سے حدیث پر عمل ہو گیا۔اگر اُس ملاں کا یہ فعل جائز ہے تو تمہارا بھی یہ فعل جائز ہے۔لیکن اُس ملاں کا یہ فعل اگر تمہیں غلط دکھائی دیتا ہے تو تمہارا بھی یہ فعل غلط ہے۔میں تو کہتا ہوں کہ اگر ایسا آدمی تین سو روپیہ میں تینتیس فیصدی چندہ دینے کی بجائے اصل آمدن میں سے چار فیصدی چندہ دیتا تو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ ایماندار تو ہوتا خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ دھوکا باز تو نہ ہوتا۔کیونکہ وہ اس کے سامنے اپنے عیب کو ظاہر کر دیتا کہ وہ اتنی بڑی قربانی نہیں کرسکتا۔مگر وہ اپنی آمد کو دو ہزار کی بجائے تین سو روپیہ لکھوا کر پھر اس میں سے تینتیس فیصدی چندہ دیتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کو دھوکا دیتا ہے، وہ جھوٹا ہے اور تکبر کرنے والا ہے۔اُس نے بلا وجہ یہ دو گناہ اپنے اندر پیدا کر لیے۔اگر وہ سچائی سے کام لیتا تو یقینا وہ دوسروں سے ثواب میں تو کم ہوتا لیکن خدا تعالیٰ کے عذاب سے تو بچ جاتا۔اگر وہ تینتیس فیصدی کی بجائے چار فیصدی چندہ دیتا لیکن آمدن ٹھیک بتاتا تو کم سے کم اسے چار فیصدی چندے کا ثواب مل جاتا۔لیکن اس طرح اُس نے تینتیس فیصدی کی بجائے چار فیصدی چندہ دیا۔جھوٹ کی وجہ سے وہ چار فیصدی چندہ کے ثواب سے بھی محروم رہا ہے