خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 317

$1948 317 خطبات محمود اور انتیس فیصدی کا گناہ بھی الگ رہا۔اس نے انتیس فیصدی کا جھوٹ بولا جس نے اس کے چار فیصدی چندہ کے ثواب کو بھی ضائع کر دیا اور اُنتیس فیصدی کا گناہ بھی باقی رہا۔میں تو کہتا ہوں اگر وہ بالکل ہی چندہ نہ دیتا تو وہ چار فیصدی چندہ نہ دینے کا ہی مجرم ہوتا اُنتیس فیصدی جھوٹ کا نہ ہوتا۔قوموں کی بنیاد سچائی پر ہوتی ہے۔سچائی کی وجہ سے وہ جیتی اور دوسری قوموں پر غالب آتی ہیں۔جن قوموں کا کیریکٹر اچھا نہیں ہوتا ، جن قوموں کا چلن مشتبہ، متر د داور مخدوش ہوتا ہے، وہ اپنی مد مقابل کی قوموں کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔لیکن جن قوموں کو چلن کے اچھا ہونے کے لحاظ سے دوسری قوموں پر برتری حاصل ہوتی ہے وہ ان کے مقابلہ میں غالب حیثیت میں کھڑی ہوتی ہیں۔جانوروں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے کہتا، بلتی وغیرہ جانوروں کو دیکھ لو۔جب ان میں سے دو جانور آپس میں لڑ رہے ہوں اُن میں ایک جب دوسرے کے چلن کی برتری کو دیکھتا ہے تو اس کے سامنے اپنی دم جھکا لیتا ہے۔جب وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ مد مقابل جانور کا مقابلہ کرنا آسان نہیں تو فوراً اپنی دم جھکا لیتا ہے۔انسان کو تو خدا تعالیٰ نے جانوروں سے زیادہ مقدرت عطا فرمائی ہے۔اگر وہ سچائی کے ساتھ کام لے، اگر اس کا چلن اچھا ہو تو اسے زائد تو فیق بھی مل جاتی ہے۔چلن کے بد ہونے کی وجہ سے اس کی ہمت اور جرات ماری جاتی ہے۔تحریک جدید کے متعلق بھی میں نے دیکھا ہے سال میں سے نو مہینے گزر چکے ہیں بلکہ ساڑھے نو مہینے گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک دو تہائی چندہ بھی نہیں آیا۔سال میں سے ساڑھے نو مہینے گزرنے کے بعد بھی تحریک کا چندہ سات ماہ کے چندہ سے کم رہا ہے۔یہ بھی نہایت افسوسناک امر ہے بلکہ دور دوم جو کہ نو جوانوں کا دور ہے جن کے متعلق ہم یقین رکھتے تھے کہ وہ دور اول میں حصہ لینے والے بوڑھوں سے زیادہ تیز چلنے والے ہوں گے اُس کا یہ حال ہے کہ لاکھوں روپے کے وعدے وصولی کے قابل پڑے ہیں۔یہ تو ہم جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا کام بہر حال پورا ہوگا مگر یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ قوم کی آئندہ نسل اور پو دیجائے آگے بڑھنے کے پیچھے جارہی ہے اور یہ نہایت ہی خطرناک بات ہے۔ہر قوم کی نسل کو آگے بڑھنا چاہیے۔جس قوم کی نسل ایمان، ایثار اور قربانی میں پہلوں سے آگے نہیں بڑھتی وہ قوم جیتا نہیں کرتی۔قوموں کی جنگ دو تین سو سال تک رہتی ہے اور جب تک کسی قوم کی پندرہ میں نسلیں اپنے پہلوں سے آگے نہ بڑھتی جائیں اس جنگ کا کامیاب فیصلہ نہیں ہوسکتا۔فرد واحد کی