خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 23

$1948 23 خطبات محمود کے لیے کیا تھا۔یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی کے زمانہ کو یوشع نبی تک لمبا کر دیا تھا۔اسی کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ مصلح موعود کی پیشگوئی کرا کر یہ بتا دیا کہ یہ زمانہ مصلح موعود کے زمانہ تک لمبا ہو جائے گا۔پس یہ زمانہ ہماری جماعت کے لیے خاص قربانیوں کا زمانہ ہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمارے زمانہ میں قربانیوں کے لحاظ سے لہریں پیدا ہو رہی ہیں اور موجودہ اہر تو بہت زیادہ بلندی تک چلی گئی ہے اور ہماری جماعت کو ایسے ابتلاء اور ایسی مشکلات سے دو چار ہونا پڑا ہے جن کی مثال ہماری گزشتہ ساٹھ سالہ تاریخ میں نہیں مل سکتی۔بے شک پہلے بھی ہماری جماعت پر ابتلاء آتے رہے مگر وہ ابتلاء محدود ہوتے تھے مگر موجودہ ابتلاء ایسا ہے جس میں جماعت کو علاوہ دیگر نقصانات کے ایک بڑا بھاری نقصان یہ بھی پہنچا ہے کہ جماعت کا بیشتر حصہ مرکزی مقام سے کٹا ہوا ہے۔پس یہ زمانہ ہم سے زیادہ سے زیادہ قربانیاں چاہتا ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ زمانہ ہماری انفرادی اور قومی اصلاح کا بھی تقاضا کر رہا ہے کیونکہ ہر قسم کی اقتصادی مشکلات کا ایک سیلاب ہے جو ہم پر انڈا چلا آ رہا ہے۔ہم پنے مرکز سے دُور ہو چکے ہیں۔نہ ہمارے پاس دفاتر بنانے کے لیے کوئی جگہ ہے اور نہ اپنے کارکنوں کے ٹھہرانے کے لیے کوئی جگہ ہے۔نہ ہمارے پاس کوئی ایسی جگہ ہے جہاں ہم سارے اداروں کو اکٹھا رکھ سکیں اور نہ ہی کوئی ایسی جگہ ہمارے پاس موجود ہے جہاں ہم باہر کی جماعتوں کو بار بار بلا کر ٹھہرا سکیں۔پھر ہماری جماعت کا معتد بہ حصہ تہی دست ہو چکا ہے اور اسی لیے ہمارے چندوں میں بھی کمی واقع ہوگئی ہے۔گویا اس وقت ہماری مشینری کی کوئی کل بھی ٹھیک نہیں رہی اور کوئی پرزہ بھی اپنی پھول میں ٹھیک نہیں بیٹھتا۔ہر کل اور ہر پھول ڈھیلی ہو چکی ہے اور ہر سامان بگڑا ہوا ہے۔اس وقت دنیا کی کوئی اور جماعت ہوتی تو اُسے بہت زیادہ پریشانی لاحق ہوتی مگر ہماری جماعت کے لیے یہ وقت پریشانی کے خیالات کو لے کر بیٹھ جانے کا نہیں بلکہ قربانیوں کے مظاہرے کا وقت ہے۔اس وقت جماعت کا کچھ حصہ تو ایسا ہے جو اپنی قربانیوں میں اضافہ کر کے یہ ثابت کر رہا ہے کہ اُس کا قدم آگے کی طرف اُٹھ رہا ہے مگر کچھ حصہ یہ بھی ثابت کر رہا ہے کہ اُس نے اس عظیم الشان تغیر کو ایک کھیل سے زیادہ وقعت نہیں دی۔یا تو یہ سمجھا جائے گا کہ اس حصہ کے اندر احساس کی کمی ہے اور یا یہ سمجھا جائے گا کہ اُس کے اندر ایمان کی کمی ہے اور عقل کے ہوتے ہوئے بھی اُس نے غور نہیں کیا کہ یہ تغیر ہم سے کیا چاہتا ہے۔اس حصہ کو چھوڑ کر باقی جماعت اخلاص اور قربانی کا نہایت اعلیٰ نمونہ پیش کر رہی ہے اور ہر شہر اور ہی