خطبات محمود (جلد 29) — Page 289
1948ء 289 خطبات محمود جانے کی وجہ سے اس کے لیے موقع ہے۔ اس لیے روس کی طرف سے کوشش کی جارہی ہے اور یہ روسی ایجنٹ ہی ہیں جو افغانستان کی حکومت کو پاکستان کے خلاف بھڑکا رہے ہیں کیونکہ اگر افغانستان اور پاکستان کے تعلقات خراب ہو جائیں تو جب وہ افغانستان میں داخل ہو گا تو افغانستان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا ۔ اب روسیوں نے افغانستان کے شمالی علاقوں کے متعلق دعوے کرنے شروع کر دیئے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں ایک گھبراہٹ سی پیدا ہو گئی ہے اور پاکستان کی مخالفت اب دب رہی ہے کیونکہ انہیں یہ نظر آ رہا ہے کہ انہیں ہڑپ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بہر حال مسلمانوں کے بچاؤ آرہا کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان غور کریں کہ کیا مزید انتظار ان کے لیے مفید ہو سکتا ہے؟ اور اگر مزید انتظار مفید نہیں ہو سکتا اور پھر بھی یہی صورت باقی رہتی ہے کہ موت یا فتح ۔ تو پھر انتظار کرنے کے معنے ہی کیا ہوئے ۔ اگر ڈاکٹر کسی مریض کے متعلق یہ کہہ دیتا ہے کہ وہ بغیر آپریشن کے ٹھیک نہیں ہو سکتا اور اُسے جلد یا بدیر آپریشن کرانا ہی ہوگا تو پھر آپریشن میں دیر کر نا مریض کے لیے کسی صورت میں بھی مفید نہیں ہو سکتا۔ بلکہ دیر کرنا اس کے لیے اور مضر ثابت ہوگا اور اُسے زیادہ کمزور کر دے گا۔ اگر بعد میں بھی آپریشن ہی کرانا ہے تو پھر مزید انتظار کے معنے ہی کچھ نہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ اس وقت تمام مسلمانوں کو مل کر غور کرنا چاہیے اور فیصلہ کر لینا چاہیے کہ یا تو وہ ان خطرات کو جوان کے لیے پیدا ہو گئے ہیں دور کر دیں اور یا پھر ختم ہو جائیں اور عزت کی موت مر جائیں۔ مجھتا نا ہوں کہ اگر مسلمان اب بھی بیدار ہو جا ئیں تو ایسا امکان ہے کہ حالات سازگار ہو جائیں۔ پس مسلمان لیڈروں اور راہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر خاص تبدیلی پیدا کریں اور ان خطرات کا اکٹھے ہو کر مقابلہ کریں۔ اس صورت میں یا تو وہ ان خطرات پر فتح پالیں گے اور یا عزت کی موت مرجائیں گے جو ذلت کی زندگی سے بہر حال بہتر ہے۔ میں نے اس کے متعلق بہت غور کیا ہے اور پہلے بھی اشار تا توجہ دلائی ہے کہ اب مزید انتظار کی ضرورت نہیں ۔ مسلمان لیڈروں اور راہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں اور موجودہ حالات کا مقابلہ کریں ورنہ دوسروں کے لیے جگہ چھوڑ دیں تا وہ کشتی اسلام کو اس بھنور سے نکالنے کی کوشش کریں۔ دوسری بات جس کے متعلق میں کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم سات آٹھ مہینے سے کوشش کر رہے تھے کہ ایک جگہ لی جائے جہاں قادیان کی اُجڑی ہوئی آبادی کو بسایا جائے ۔ یہ