خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 284

1948ء 284 خطبات محمود جس کی وجہ سے پانی تو قاعدے کے مطابق چکر کھا رہا ہے لیکن ہزاروں تنکے اور لکڑیوں کے ٹکڑے جن کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں مجبور ہیں کہ اس کے ساتھ وہ بھی چکر کھائیں۔ ان میں طاقت نہیں کہ وہ میں اپنے آپ کو اس بھنور سے نکال سکیں۔ یہ بھنور اور بگولے آتے ہیں تو محدود جگہوں میں آتے ہیں۔ دریاؤں میں بھنور پڑتے ہیں تو محدود جگہوں میں پڑتے ہیں اور باقی علاقے راہ گزروں کے لیے محفوظ رہتے ہیں۔ بگولے آتے ہیں تو زمین کے محدود حصے پر آتے ہیں لیکن یہ بھنور ایسا آیا ہے، یہ بگولا ایسا اٹھا ہے جس کے اثر اور زد سے دنیا کا کوئی کو نہ بھی محفوظ نہیں، پہاڑوں پر بسر کرنے والے بھی اس سے محفوظ نہیں اور دریاؤں میں بسر کرنے والے بھی اس سے محفوظ نہیں ۔ سب کو اس میں داخل ہونا ہو گا اور سب کو اس کے ساتھ چکر کھانے پڑیں گے۔ بگولا اڑانے والے اور بھنور بنانے والے تسلی پا جائیں گے۔ اس لیے کہ انہوں نے بہت بڑا کام کیا۔ اگر وہ جیتیں گے تو وہ کہیں گے ہم نے کامیابی حاصل کر لی اور اگر ہاریں گے تو کہیں گے کہ ہم ہار گئے تو کیا ہوا ؟ ہم نے اپنی تسلی تو کر لی ہے۔ ہم نے اپنا پورا زور تو لگا لیا ہے جیسے شاعر کہتا ہے شکست و فتح نصیبوں پہ ہے ولے 1 اے میر مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا ہارنے والا تو کہے گا کہ اس نے خوب مقابلہ کیا اور جیتنے والا کہے گا کہ اس نے اپنے مقصد کو پالیا مگر جو بیچارے ساتھ یونہی چکر کھا رہے ہوں گے ان کے دل رور ہے ہوں گے اور باقی دنیا ان پر ہنس رہی ہوگی۔ نہ جیتنے والوں کو ان سے دلچسپی ہوگی اور نہ ہارنے والوں کو ان سے کوئی ہمدردی ۔ ان کے اس بگولے اور بھنور میں پھنس جانے کی کیا وجہ تھی ؟ اسے کون جانتا ہوگا ؟ آئندہ آنے والے مؤرخ یہ لکھ دیں گے کہ یہ لوگ بالکل ناکردہ گناہ تھے۔ یونہی اس مصیبت میں پھنسا دیئے گئے تھے اور خواہ نخواہ اس مشکل میں ڈال دیئے گئے تھے۔ لیکن جہاں یہ ٹھیک ہے کہ بگولوں کے پیدا کرنے اور بھنور کو بنانے میں بہت سی مخلوق کا دخل ہے اور اس میں پھنس جانے والوں کے پاس طاقت کم ہے وہاں اس چیز میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ انسان سمجھ دار اور با عقل پیدا کیا گیا ہے۔ وہ بے شک مصیبت میں پھنس جاتا ہے مگر مصیبت کے وقت اس کا مقابلہ کرنے سے بھی باز نہیں رہ سکتا۔ جب ایک انسان شہد حاصل کرنے کے لیے مکھیوں کے چھتے کے پاس جاتا ہے اور اس سے شہد لینے کی کوشش کرتا ہے تو ساری دنیا جانتی ہے کہ لکھیاں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ لیکن باوجود اس کے وہ اس کے مقابلہ سے پیچھے بھی نہیں ہٹتیں۔ مکھی