خطبات محمود (جلد 29) — Page 281
1948ء 281 خطبات محمود اور مال غنیمت ساتھ آیا تو مکہ والے چونکہ حدیث العہد تھے۔ اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت کا مال اُن میں تقسیم کر دیا۔ اس پر ایک انصاری نے کہا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور اموال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہم وطنوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کر دیئے ہیں ۔ 6 آپ کو بھی کسی نے اطلاع دے دی ۔ آپ نے انصار کو جمع کیا اور فرمایا اے انصار ! میں نے ایسی بات سنی ہے۔ انصار نے کہا یا رسول اللہ ! ہم نے کوئی ایسی بات نہیں کہی ۔ یہ ایک احمق نوجوان نے کہی ہے۔ ہم خود اس سے متنفر ہیں ۔ آپ نے فرمایا اے انصار ! اس بات کے دو پہلو ہو سکتے ہیں۔ اس کا ایک پہلو تو یہ ہو سکتا ہے کہ تم کہو کہ جب مکہ والوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر نکال دیا تو ہم نے آپ کو پناہ دی ، ہم اس کے لیے لڑے ، ہم نے ہی لڑ لڑ کر اسے فتح دلائی اور جب فتح ہو گئی تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال اپنی قوم میں تقسیم کر دیا اور ہم کو محروم کر دیا ۔ انصار کی حالت گریہ وزاری اور چیخ و پکار کی وجہ سے ایسی تھی جیسے قیامت کا شور ہوتا ہے۔ ان کے سینوں سے گونجیں اٹھ رہی تھیں اور وہ بار بار کہتے تھے یا رسول اللہ ! ہمارا اس میں کوئی قصور نہیں ۔ صرف ایک نوجوان نے ایسی بات کہہ دی ہے۔ ہم اس سے متنفر ہیں ۔ آپ نے فرمایا اے انصار! ایک پہلو یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی کہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں مبعوث ہوئے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بھی دعا یہی تھی مگر مکہ والوں نے آپ کی قدر نہ کی اور آپ کو باہر نکال دیا۔ خدا تعالیٰ اپنے رسول کو مدینہ میں لے گیا اور خدا تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیج کر اپنے رسول کو فتح دلائی۔ چنانچہ جو کام مدینہ والوں سے نہیں ہو سکتا تھا وہ خدا نے کیا۔ جب فتح مکہ ہوئی تو مکہ والے سمجھتے تھے کہ ہماری پرانی بیوقوفیوں کا ازالہ ہو جائے گا، ہمارا مال ہمیں واپس مل جائے گا ، خدا تعالیٰ کا رسول مکہ میں واپس آ جائے گا ۔ مگر خدا تعالیٰ نے یہ پسند نہ کیا کہ مدینہ والوں کو اس نعمت سے محروم کر دے ۔ آخر لڑائی کے بعد مکہ والے تو اونٹ ہانک کر اپنے گھروں کو لے گئے اور مدینہ والے خدا تعالیٰ کے رسول کو اپنے ساتھ لے گئے ۔ 7 فرمایا اے انصار ! تم یوں بھی کہہ سکتے تھے۔ انصار نے پھر کہا یا رسول اللہ ! ہم نے ایسا نہیں کہا۔ کسی نوجوان نے ایسا کہا ہے۔ آپ نے فرمایا میں تمہاری قربانیوں کی قدر کرتا ہوں مگر جو بات منہ سے نکل جاتی ہے وہ واپس نہیں لی جاسکتی ۔ تمہیں اس دنیا میں اب بادشاہت نہیں ملے گی۔ تم کوثر پر ہی آکر اپنا انعام مجھ سے لینا ۔8 آج اس بات پر 1300 سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر انصار میں سے کوئی بھی بادشاہ