خطبات محمود (جلد 29) — Page 263
$1948 263 خطبات محمود چند افراد نے مکہ کی طاقت کو توڑ دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کفار سے رعایت کر جاتے تھے مگر وہاں تو آپ موجود نہیں تھے۔مسلمان پوری طرح حملہ کرتے تھے اور کفار کو تباہ کر دیتے تھے۔یہاں تک کہ کفار مکہ نے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان مسلمانوں کو واپس بلا لیجیے۔یہ لوگ تھوڑے سے تھے مگر انہوں نے مسلمانوں کا وہ رعب بٹھا دیا کہ مکہ والوں کی غیرت بالکل مٹ گئی۔انہوں نے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ان کو واپس بلا لیجیے۔سارے مکہ والے ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور اس طرح فتح مکہ کی بنیاد قائم ہوگئی۔اس کے بعد قبائل میں خود بخود جوش پیدا ہو گیا۔جن کے مکہ والوں سے معاہدات تھے جب انہوں نے دیکھا کہ مکہ والے دس بارہ آدمیوں کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے تو وہ ان سے الگ ہونے لگے اور مسلمانوں کے ساتھ ملنے لگے۔یہی اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ کوئی قوم اُس وقت تک جیت ہی نہیں سکتی جب تک کہ وہ ہر وقت اور ہرلمحہ اپنے مقصد کی طرف متوجہ نہر ہے۔جس طرح اُس زمانہ میں مسلمانوں کا یہ مقصد تھا کہ ہم نے مکہ فتح کرنا ہے اسی طرح ہر زمانہ میں ، ہر ملک اور ہر قوم کے لیے ایک مقصد ہوتا ہے۔جب تک کوئی قوم اپنے مقصد کو پورا کرنے لیے اپنی زندگیاں صرف نہ کر دے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔بلکہ اُس وقت تک کسی کامیابی کی امید رکھنا ہی غلط ہے۔میں نے تمام مذاہب کی تاریخوں میں جو بھی محفوظ ہیں کہیں بھی نہیں دیکھا کہ ایک آدمی اگر تجارت کر رہا ہے تو وہ تجارت ہی کر رہا ہے اور اگر اس نے تھوڑا بہت چندہ دے دیا تو سمجھ لیا کہ اس نے دین کی بہت بڑی خدمت کر دی ہے۔میں نے ایسی کوئی مثال نہیں دیکھی۔نہ موسی علیہ السلام کی قوم نے ایسا کیا، نہ عیسی علیہ السلام کی قوم نے ایسا کیا ، نہ رام اور کرشن علیہما السلام کی قوموں نے ایسا کیا اور نہ زرتشت علیہ السلام کی قوم نے ایسا کیا۔غرض کسی بھی نبی کی قوم نے ایسا نہیں کیا۔سارے ہی موت کو قبول کرتے تھے۔تجارت اور پیشے کرنا ان میں حق نہیں تھا مگر وہ جو بھی کرتے تھے اپنے مقصد کی تائید کے لیے کرتے تھے۔وہ نوکریاں اس لیے کرتے تھے تا جماعت کی ترقی کے لیے موقع مل سکے۔وہ زراعت اور صنعت و حرفت اس لیے کرتے تھے تا جماعت کی ترقی کے لیے کوئی موقع مل سکے۔وہ پیشے س لیے کرتے تھے تا جماعت کی ترقی کے لیے کوئی موقع مل سکے اور وہ تجارتیں اس لیے کرتے تھے تا جماعت کی ترقی کے لیے کوئی موقع مل سکے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری جماعت میں سے بہت سے