خطبات محمود (جلد 29) — Page 257
خطبات محمود 257 $1948 پس مِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کے یہ معنے ہوئے نی کہ تم جہاں سے بھی نکلو یا جس جگہ سے بھی نکلو۔تمہارا مقصد یہ ہو کہ ہم نے مکہ فتح کرنا ہے۔پھر خروج کے معنی لشکر کشی کے بھی ہوتے ہیں۔اس صورت میں آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ تم جہاں بھی لشکر کشی کرو۔کسی جگہ بھی لڑائی کے لیے جاؤ۔چاہے تم مشرق کی طرف نکلو یا جنوب کی طرف نکلو،مغرب کی طرف نکلو یا شمال کی طرف نکلو تمہارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ تمہارا یہ خروج فتح مکہ کی بنیاد قائم کرنے والا ہو۔مثلا تم اگر جنوب کی طرف دشمن پر حملہ کرنا چاہو لیکن تمہیں معلوم ہو جائے کہ اس ملک کے مغرب کی طرف بھی دشمن موجود ہیں اور اُن کے متعلق یہ شبہ ہے کہ وہ کہیں پیچھے سے حملہ نہ کر دیں اور تم پہلے مغرب کی طرف حملہ کر کے اُن کو صاف کر لو تو اس کے معنے ہوں گے کہ یہ مغرب کی طرف حملہ اصل میں جنوب کے حملہ کا پیش خیمہ ہے۔اسی طرح اگر اس قوم کے ساتھی شمال میں بستے ہوں اور پہلے تم ان پر حملہ کرو تو۔۔۔۔۔۔تمہارا احملہ اصل میں جنوب پر ہی ہوگا کیونکہ اصل مقصد تمہارا جنوب کے دشمن پرحملہ کرنا ہی ہوگا۔اسی اصل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مسلمانو! تم کسی قوم کسی ملک اور کسی علاقے پر چڑھائی کرو تو اس کا مقصد یہی ہونا چاہیے کہ تم نے مکہ فتح کرنا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑے کام پر قوم کی توجہ کا مرکوز کرنا ضروری ہوتا ہے اور اسی طرح افراد کو بھی بڑے کاموں کے کرتے ہوئے اپنی پوری توجہ ان کی طرف لگا دینا ضروری ہوتا ہے۔اگر کوئی قوم یا فردایسانہ کرے تو وہ کبھی بڑے مقصد پورے نہیں کر سکتے۔خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو ایک خاص مقصد کے لیے قائم کیا ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کرنا ہے۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ 3 کہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ اس لیے فرمائی ہے تا اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کر دیا جائے۔گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی غرض ہی یہ ہے کہ آپ نے اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کرنا ہے۔یہ غلبہ ہزاروں ہزار اقسام کا ہے۔اس زمانہ میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں جس میں اسلام غالب نظر آتا ہو۔دین کو لے لو۔اگر چہ عیسائیت جھوٹی ہے اور اسلام ہی سچا مذہب ہے مگر پھر بھی عیسائیوں میں کئی لاکھ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو اپنے دین کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کر دیتے ہیں۔