خطبات محمود (جلد 29) — Page 258
$1948 258 خطبات محمود عیسائیوں کا چھ لاکھ باقاعدہ مبلغ ہے اور یہ صرف پروٹسٹنٹ اور پرولیٹیرین ( PROLETARIAN) چرچوں کا ہے۔رومن کیتھولک ان کے علاوہ ہیں۔سارے ملا کر قریباً ہمیں چھپیں لاکھ پادری بن جاتے ہیں۔اب دیکھو! انہیں صرف جھوٹا کہنے سے کیا بنے گا۔جھوٹے کے معنے تو یہ ہیں کہ آپ کے اندر اس سے زیادہ قربانی پائی جائے لیکن حال یہ ہے کہ جو جھوٹا ہے وہ تو ایک انسان کی خدائی منوانے کے لیے لاکھوں مبلغ دیتا ہے لیکن سچا، خدا کی خدائی منوانے کے لیے سینکڑوں مبلغ بھی نہیں دیتا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں ایسے پچاس آدمی بھی نہیں پائے جاتے۔اس کے مقابلہ میں عیسائیت کے پاس لاکھوں مبلغ ہیں جو بڑے جوش کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔افریقہ کے ایک علاقہ میں ایک دفعہ عیسائیوں کے چھ سات مشنری گئے۔وہاں کے مردم خور آدمیوں نے انہیں کھا لیا۔جب یورپ میں یہ خبر پہنچی تو تین چار دن میں کئی ہزار مردوں اور عورتوں نے اپنے نام پیش کر دیئے کہ ہم وہاں جانے کے لیے تیار ہیں۔مسلمان اول تو وہاں گئے ہی نہیں لیکن اگر چلے بھی جاتے اور مردم خور انسان انہیں کھا لیتے تو جب وہاں سے خبر آتی ہماری عورتیں کہتیں شکر ہے ہمارا بچہ نہیں گیا تھا۔اس کے مقابلہ میں عیسائیوں میں کتنا جوش ہے۔صرف یہ کہنے سے کہ ہمارا مذہب سچا ہے اور وہ جھوٹے ہیں کیا بن جاتا ہے۔سچاند ہب کیا کوئی جادو اور ٹو نہ ہے کہ اگر اس کا نام لے لیا تو اللہ تعالیٰ ہمیں آسمان پر جگہ دے دے گا؟ بچے کی کوئی علامت ہونی چاہیے۔پھر عیسائیت کے مقابلہ میں ہم اگر لاکھوں مبلغ بھی دیں تو وہ کون ہوں گے؟ وہ ایسے ہوں گے جن کی 25 سے 50 تک ماہوار آمدن ہوگی ، جو دال روٹی کھانے والے ہوں گے۔ان کو اگر ایک آدھ وقت کا فاقہ بھی آگیا تو آخر کونسا فرق پڑے گا لیکن عیسائیت میں جن لوگوں نے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں انہیں ہر قسم کی دولت میسر تھی۔اگر مسلمان اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں تو گویا 50 روپے ماہوار خرچ کرتے ہیں لیکن اس کے مقابلہ میں عیسائی لوگ ہزار، دو ہزار تین ہزار روپیہ ماہوار خرچ کرتے ہیں۔ان میں طاقت تھی کہ وہ اتنی کمائی کر سکیں لیکن اس آمدن کو چھوڑ کر وہ چلے گئے۔یسے ایسے ڈاکٹر جو سارے علاقے میں مشہور تھے ، جو شہر میں پریکٹس کے ذریعہ چالیس چالیس، پچاس پچاس ہزار روپیہ ماہوار کما سکتے تھے گرجے میں تنگی سے اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔انہیں وہاں معمولی کھانے پینے کومل جاتا ہے۔دو تین جوڑے کپڑے پہنے کومل جاتے ہیں اور پھر وہ اپنی ساری عمر