خطبات محمود (جلد 29) — Page 239
1948ء 239 25 خطبات محمود ڈاکٹر میجر محمود احمد صاحب کی شہادت پر جماعت کو کیا رد عمل دکھانا چاہئے ۔ (فرموده 20 اگست 1948ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ ) (غیر مطبوعہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: پرسوں رات جو واقعہ ہوا ہے وہ ایسا نہیں ہے جسے ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا جائے۔ دنیا میں ہر بڑے کام کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ہوتا ہے اور وہ نتیجہ ہر شخص اپنے اپنے رنگ میں نکالتا ہے۔ گندے لوگ گندے پہلو سے اُس کا نتیجہ نکالتے ہیں اور شریف آدمی شریف پہلو سے اُس کا نتیجہ نکالتے ہیں۔ مگر بہر حال عقلمند آدمی کسی اہم کام کو نظر انداز نہیں کیا کرتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر وہ ایسا کرے گا تو یہ اُسے احمق تو ثابت کر دے گا مگر اُس کام کی اہمیت میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ جیسے کہتے ہیں جب کبوتر پر بلی حملہ آور ہوتی ہے تو وہ آنکھیں بند کر لیتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ اب وہ بلی سے محفوظ ہو گیا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ چونکہ اُسے بلی نظر نہیں آرہی اس لیے وہ بھی اس بلی کو نظر نہیں آرہا۔ حالانکہ کسی اہم کام کو نظر انداز کر دینے سے اُس کی اہمیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جو واقعہ پرسوں رات ہوا ہے اُس کا کیا رد عمل ہوگا ؟ یہ ایک سوال ہے جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر میجر محمود احمد صاحب کی شہادت کے بعد 20 اگست کو حضور نے یہ خطبہ جمعہ کوئٹہ میں دیا۔ نے یہ