خطبات محمود (جلد 29) — Page 240
$1948 240 خطبات محمود دنیا میں سب لوگ برابر نہیں ہوتے۔کوئی رذیل ہوتا ہے اور کوئی شریف ہوتا ہے اور ہر ایک اپنے اپنے رنگ میں ردِ عمل اختیار کر لیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک انصاری نوجوان سے غلطی ہوئی اور اُس کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال مکہ والوں میں تقسیم کر دیا ہے۔آپ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے انصار کو اکٹھا کیا اور فرمایا اے انصار! میں نے سنا ہے تم میں سے ایک نوجوان نے یہ کہا ہے کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال غنیمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہم وطنوں اور رشتہ داروں کو دے دیا ہے۔انصار نے روتے ہوئے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم میں سے ایک بیوقوف نوجوان نے یہ بات کہہ دی ہے ورنہ ہم اُس سے بیزار ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انصار ! تم یہ کہ سکتے ہو کہ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو آپ کے ہم وطن تھے اور رشتہ دار تھے اپنے شہر سے نکال دیا تو ہم نے آپ کو پناہ دی۔حالانکہ آپ ہماری قوم کے نہیں تھے، آپ ہمارے وطن کے نہیں تھے۔پھر مکہ والوں نے یہیں تک بس نہیں کیا بلکہ انہوں نے آپ کا مدینہ میں بھی پیچھا نہ چھوڑا اور آپ پر حملہ کر دیا۔اس پر ہم نے اپنی جانیں قربان کر کے آپ کی حفاظت کی لیکن جب ہماری قربانیوں اور فدائیت کی وجہ سے آپ نے فتح پائی تو آپ نے غنیمت کے تمام اموال اپنے ہم وطنوں اور رشتہ داروں کو دے دیئے اور مدینہ والوں کو نظر انداز کر دیا۔انصار نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم ایسا نہیں کہتے۔یہ الفاظ ہمارے ایک بیوقوف نوجوان کے منہ سے نکلے ہیں۔آپ نے فرمایا اے انصار! اگر تم چاہو تو یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں مبعوث ہوئے۔وہ مکہ جس کے لیے یہ عزت اور رتبہ مقد رتھا اُس کے رہنے والوں نے اس نعمت کی ناقدری کی اور خدا کے رسول کو باہر نکال دیا اور خدا نے یہ نعمت مدینہ والوں کے سپرد کر دی۔آخر خدا نے اپنے نشانوں اور معجزات کے ذریعے اسے فتح دی ، اپنے فرشتوں کی مدد سے اُسے دشمنوں پر غلبہ بخشا اور یہ چھوٹی سی قوم فاتح بن گئی۔جب مکہ فتح ہو گیا تو مکہ والے یہ امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ ہماری امانت ہمیں واپس مل جائے گی اور اللہ تعالیٰ کا رسول مکہ میں پھر واپس آجائے گا۔مگر بجائے اللہ کے رسول کو مکہ میں لے جانے کے مکہ والے تو اونٹ اور بکریاں ہانک کر اپنے گھروں میں لے گئے اور مدینہ والے اللہ تعالیٰ کے رسول کو اپنے ساتھ لے گئے۔1 پس ہر ایک چیز کو مختلف نقطہ ہائے نگاہ سے دیکھا جاسکتا ہے۔