خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 226

$1948 226 خطبات محمود روزہ رکھ سکتے ہیں اور پھر وہ روزہ نہیں رکھتے یا ان سے کچھ روزے رہ گئے ہوں اور وہ کوشش کرتے تو انہیں پورا کر سکتے تھے لیکن وہ ان کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو وہ ایسے ہی گنہگار ہیں جس طرح وہ شخص گنہگار ہے جو بلا عذر رمضان کے روزے نہیں رکھتا۔اس لیے ہر احمدی کو چاہیے کہ جتنے روزے اس نے کسی غفلت یا کسی شرعی عذر کی وجہ سے نہیں رکھے وہ انہیں بعد میں پورا کرے۔یا اگر اس کے کچھ روزے غفلت یا کسی شرعی عذر کی وجہ سے پانچ چھ سال سے رہ گئے ہوں تو وہ انہیں بھی پورا کرے تا عذاب سے بچ جائے۔یہ کوئی بڑی قربانی نہیں۔بلوغت کے زمانہ کے بعد کے جتنے روزے رہ گئے ہوں وہ بڑھاپے سے پہلے پہلے پورے کرنے چاہیں۔محض اس قرضہ کے زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ انہیں نظر انداز نہیں کر سکتا اور نہ پچھلے روزے معاف ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ بعض لوگ دو دو، تین تین سال تک چندہ نہیں دیتے اور جب ان سے مانگا جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں اچھا پچھلے سالوں کا چندہ معاف کر دو پھر چندہ دیں گے۔اس طرح پچھلے سالوں کے جو روزے رہ گئے ہیں وہ معاف نہیں ہو سکتے۔خدا بھی وہ چیز معاف کرتا ہے جو ناممکن ہو اور انسان کی طاقت سے باہر ہو۔اگر کسی شخص نے ایسا کیا ہے تو اس نے قرآن کریم کے حکم کے خلاف کیا ہے۔اس نے اگر بیماری کی سہولت سے فائدہ اٹھایا تھا تو اسے چاہیے کہ اپنے چھوٹے ہوئے روزے پورے کرے۔سارا سال ہی اس کی یہ حالت نہیں رہتی کہ وہ روزے نہ رکھ سکے۔کوئی نہ کوئی زمانہ ایسا آتا ہے جب وہ روزے رکھ سکتا ہے۔بڑھاپے میں بھی ایک زمانہ ایسا آتا ہے جب انسان روزے رکھ سکتا ہے۔اگر وہ گرمیوں میں روزے نہیں رکھ سکتا تو سردیوں میں رکھ لے۔مگر ایک بڑھا پا ایسا بھی ہوتا ہے جس میں نہ گرمیوں میں روزے رکھے جاسکتے ہی ہیں اور نہ سردیوں میں روزے رکھے جا سکتے ہیں۔لیکن مختلف انسانوں کی مختلف طاقتیں ہوتی ہیں۔مولوی سید سرور شاہ صاحب 84 سال کی عمر کے تھے مگر برابر روزے رکھتے تھے۔گرمیوں میں ڈلہوزی میں وہ میرے پاس آجاتے تھے۔وہاں گرمی سے تو بچاؤ ہو جاتا تھا مگر دن تو اتنا ہی لمبا ہوتا تھا مگر باوجوداس کے شاذ ہی کوئی روزہ اُن سے چھوٹتا تھا۔پس اگر انسان ہمت کرے تو وہ کمزوریوں پر غالب آجاتا ہے۔پس ایک تو میں جماعت کو یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ جن دوستوں نے رمضان کے سارے روزے نہیں رکھے وہ بعد میں روزے رکھیں اور اُن کو پورا کریں۔خواہ وہ روزے غفلت کی وجہ سے رہ