خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 221

$1948 221 خطبات محمود دوسری جماعتوں کے بعض دوستوں کا مجھے علم ہے جن کی جائیداد مجھ سے کسی صورت میں بھی کم نہیں لیکن میرے چندے کا پانچواں یا چھٹا حصہ انہوں نے چندہ لکھوایا ہے حالانکہ ان کی جائیداد میں بہت زیادہ ہیں۔ایسی غلطی کرنے والوں کی اصلاح کریں اور ان سے صحیح وعدے لے کر ادا ئیگی کروائیں۔کئی دوست چھوٹی چھوٹی آمدوں کو آمد ہی خیال نہیں کرتے۔ایک بڑی آمد کو آمد سمجھ کر اس کا چندہ دے دیتے ہیں اور بڑی آمد پر بھی پہلے ہی ڈسکاؤنٹ Discount) لگا لیتے ہیں۔تاجر خیال کرتے ہیں کہ وہ دکان سے جو گھر کا خرچ نکالتے ہیں وہی ان کی آمد ہے۔بعض لوگ آپ ہی اپنی تنخواہ مقرر کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری آمد یہ ہے اور باقی نفع کہتے ہیں کہ دکان میں لگا دیا گیا حالانکہ جو آمد ہے وہی آمد ہے خواہ وہ دکان میں ڈال دی جائے یا بنک میں جمع کرا دی جائے۔ایک ہی بات ہے۔یہ کہہ دینا کہ دکان والی رقم کا مجھے کیا فائدہ غلط ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ایسا کرنے والے ہیں تو مومن، لیکن غلط نہی کی بناء پر ایسا کرتے ہیں۔اگر انہیں سمجھایا جائے تو اصلاح ہو سکتی ہے۔اگر ان کے اندر ایمان نہیں ہے تو وہ جماعت سے علیحدہ ہو جائیں گے اور اس طرح جماعت ان کے بوجھ سے بچ جائے گی لیکن اگر ان میں ایمان ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں غلط فہمی ہوئی ہے تو وہ ضرور اپنی اصلاح کر لیں گے۔میں نے دیکھا ہے کہ جماعت میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو وضاحت کر دینے کے بعد بھی پیچھے رہنے والے ہوں۔ڈاکٹر عبدالحکیم مرتد اور اس کے نقش قدم پر چلنے والوں کی طرح مجھے جماعت میں عیب ہی عیب نظر نہیں آتے۔میرا تجربہ یہ ہے کہ جب بات کھل جاتی ہے تو جماعت کا اکثر حصہ قربانی میں پیچھے نہیں رہتا۔نیک کام کے لیے عادت کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی کام کی عادت پڑنے میں کچھ دیر لگتی ہے۔احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کبھی کوئی نیا حکم دیا تو کچھ دیر تک اس میں رکاوٹ پڑ جاتی تھی مگر کچھ عرصہ بعد وہ صحیح ہو جاتی تھی۔چندے کی عادت پڑنے میں بھی دیر لگتی ہے۔جب سلسلہ کا کام خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے سپرد ہوا اُس وقت دو پیسہ فی روپیہ چندہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں دھیلافی روپیہ چندہ تھا۔پھر پیسہ ہوا، پھر دو پیسے ہوا اور پھر ایک آنہ فی روپیہ چندہ ہوا۔اب جماعت کے ایک حصہ نے وصیت بھی کی ہوئی ہے جو کم از کم اپنی آمد کا1/10 چندہ دیتے ہیں اور اب سینکڑوں کی تعداد بلکہ جیسا کہ مجھے پچھلی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے یہ تعداد ہزار تک پہنچ گئی ہے جو ساڑھے سولہ فیصدی سے پچاس فیصدی تک چندے دے رہے ہیں۔بعض