خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 189

1948ء 189 خطبات محمود اور اسے کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض دفعہ کوئی شخص سارا دن نماز میں لگا رہتا ہے اور وہ دوسرے کاموں کی طرف توجہ نہیں کرتا یہ چیز نا جائز ہے۔ بہر حال جس حد تک نفس کی صفائی کے لیے اپنے آپ کو عبادت میں لگانا ضروری ہے اُس حد تک نفس کی اصلاح کے لیے جماعت کو اختیار کرنا ہے حدتا ہر انسان پر فرض ہے۔ اگر نفس کی اصلاح ہوگی تو دین کی سچی خدمت کی توفیق ملے گی اور انسان اسلام کا بہادر سپاہی بن سکے گا۔ تمام خرابیاں ہمیشہ نفس کے بگاڑ سے پیدا ہوتی ہیں۔ جب تک نفس کی اصلاح نہ ہو نہ اطاعت کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور نہ عقل و فہم کا مادہ پیدا ہوتا ہے لیکن عقل سے سب چیزیں آپ ہی آپ درست ہو جاتی ہیں ۔ مگر عقل کبھی مکمل نہیں ہوسکتی جب تک نماز ، روزہ ، ذا وزه ، ذکر الہی ، توکل خشیت الہی کی عادت نہ پیدا کی جائے۔ یہ چیزیں نفس کے جلا اور اُس کو نور بخشنے کے لیے ضروری ہیں۔ پس اُس حد تک عبادت کرنا جس حد تک نفس کے چلا کے لیے ضروری ہو نہایت اہم ہے اور دوسرے سب کاموں کے لیے مقدم ہے۔ اور پھر اس کے بعد دوسرا قدم خدمت خلق کا ہے اور اس میں سب سے مقدم چیز تبلیغ ہے۔ اگر تم کسی کو روٹی کھلاتے ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تم اُسے شام تک تکلیف سے بچاتے ہو، اگر تم کسی کو کپڑا پہناتے ہو تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تم تین چار مہینے تک اُس کو ننگا رہنے سے بچاتے ہو، اگر تم کسی کو گرمیوں میں پانی پلا دیتے ہو تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تم گھنٹہ دو گھنٹہ تک اُس کی پیاس بجھاتے ہو۔ لیکن اگر تم کسی کود کو دین دیتے ہو تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تم اُسے ابدی زندگی بخشتے ہو۔ اور تم اُسے وہ تحفہ دیتے و گھنٹے کے بعد ختم نہیں ہوگا ، جو دو مہینوں کے بعد ختم نہیں ہوگا ، جو دو سال کے بعد ختم نہیں ہوگا ، جو ایک صدی کے بعد بھی ختم نہیں ہوگا، جو دنیا کی عمر کے بعد بھی ختم نہیں ہوگا بلکہ ابدالآباد تک چلتا چلا جائے گا جس کا اندازہ لگانا بھی انسانی طاقت سے باہر ہے۔ ہو جو دو گھنٹے غرض بہترین تحفہ تبلیغ کا تحفہ ہے اور بہترین احسان جو انسان کسی پر کر سکتا ہے وہ تبلیغ کا احسان احسان جو انسان کی پر جوانسا ہے۔ لیکن مجھے کوئٹہ کی جماعت کی تبلیغ کا کوئی نظارہ دیکھنا نصیب نہیں ہوا اور نہ ہی خط و کتابت سے کسی بیعت کا پتہ چلا ہے۔ شاید کئی کئی مہینے بلکہ سالہا سال گزر جاتے ہیں مگر یہاں کوئی احمدی نہیں ہوتا۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ ایک دفعہ کے سوا جس کے بعد وہ بیعت کرنے والا مرتد ہو گیا کوئٹہ کی تو اصل باشندوں کی کوئی بیعت مجھے یاد نہیں۔ ممکن ہے اس میں میرے حافظہ کی غلطی ہو مگر مجھے یاد ہے کہ اب تک کوئٹہ کی کسی