خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 174

$1948 174 خطبات محمود بند ہو جائے گا اور وہ کہے گا کہ ان لوگوں میں ایمان کی کچی علامت پائی جاتی ہے۔پس ہر شخص کو چاہیے کہ وہ وصیت کر دے اور اس طرح دنیا کو بتادے کہ قادیان کے نکلنے سے ہمارا ایمان کمزور نہیں ہوا بلکہ ہم اپنے ایمان میں پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ مقبرہ بہشتی کے وعدے دنیا کے ہر گوشہ میں ہم کو ملتے رہیں گے۔ایک بات میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ چونکہ اس کا تعلق صدرانجمن احمدیہ سے ہے اور دفاتر میں عام طور پر رقابت پائی جاتی ہے۔اس لیے اس بارہ میں احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ صدر انجمن احمدیہ میں جماعتوں اور افراد کی طرف سے اس تحریک کے سلسلہ میں جو روپیہ آرہا ہے اس میں تحریک جدید کا حصہ بھی شامل ہوتا ہے مگر صدرانجمن احمد یہ خاموشی سے اس روپیہ کو اپنے خزانہ میں ڈال لیتی ہے۔تحریک جدید والوں کو اُن کا چندہ ادا نہیں کرتی۔پس چونکہ اس قسم کے خدشات موجود ہیں اس لیے میں یہ قانون مقرر کرتا ہوں کہ ہر شخص کی طرف سے صدر انجمن احمدیہ کو جو چندہ ملتا ہے اُس سے زیادہ کی وہ مالک نہیں ہوگی جتنا کوئی پہلے چندہ دیا کرتا تھا اُسی نسبت سے صدر انجمن احمدیہ کو چندہ ملے گا۔باقی روپیہ میں اگر تحریک جدید کا چندہ شامل ہوگا تو وہ حصہ تحریک جدید کو ملے گا۔حفاظت مرکز کا چندہ شامل ہوگا تو اتنا حصہ حفاظت مرکز کو ملے گا۔اور جو کچھ باقی بچے گا اُسے میں اپنے اختیار سے سلسلہ کے مختلف محکموں میں تقسیم کروں گا۔وہ رقم صدر انجمن احمدیہ کی ملکیت نہیں ہوگی۔صدر انجمن احمدیہ کا حصہ صرف اتناہی ہوگا جتنا اسے پہلے ملا کرتا تھا لیکن بہر حال صدر انجمن احمدیہ کے پاس عذر ہوتا ہے کہ چندہ آیا، بھیجنے والے نے کوئی خاص وضاحت نہیں کی تھی اس لیے ہم نے اُسے اپنے خزانہ میں داخل کر لیا۔اگر چندہ بھیجنے والا واضح کر دیتا تو ایسا نہ ہوتا۔پس میں جماعت پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص فتنہ سے بچنا چاہتا ہے اور آئندہ خط و کتابت کی اس مصیبت سے نجات حاصل کرنے کا خواہش مند ہے تو تحریک جدید والوں کو بھی لکھ دینا چاہیے کہ اتنا چندہ میں دیا کرتا ہوں۔اس میں اتنا حصہ تمہارا ہے باقی ریز روفنڈ میں شامل کر دیا جائے اور اسے خلیفہ اسیح کے حکم کے ماتحت خرچ کیا جائے۔جو لوگ ایسا نہیں کریں گے اُنہیں زائد چندوں میں الگ حصہ لینا پڑے گا۔مثلاً نئے مرکز کی تحریک ہو تو لازمی طور پر اُس کا الگ وعدہ لیا جائے گا۔لیکن میرا منشا یہ ہے کہ سر دست عام چندوں اور تحریک جدید کے چندوں کو کاٹ کر جو کچھ بچے اُسے