خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 170

$1948 170 خطبات محمود بات سن کر بڑے جوش سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! جب آپ سے ہم نے مکہ میں وہ معاہدہ کیا تھا اُس وقت تک ایمان ہم پر پوری طرح روشن نہیں ہوا تھا۔صرف ایک محدود روشنی ہمیں ملی تھی اور ہم شرطیں باندھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے لیکن یا رسول اللہ ! اس کے بعد حقیقت اسلام ہم پر پوری طرح کھل گئی ہے اور آپ کی صداقت کو ہم نے پوری طرح پر کھ لیا ہے۔اس صداقتِ اسلام کے روشن ہو جانے اور پر کھنے کے بعد کیا اب بھی کوئی شرط باقی رہ سکتی ہے؟ اب تو شرطوں کا کوئی سوال ہی نہیں۔یارسول اللہ ! اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ تم اپنے گھوڑوں اور سواریوں کو سمندر میں ڈال دو ( اُس جگہ کے قریب چند منزل پر سمند ر تھا اور عرب سمندر سے بڑا ڈرا کرتے تھے ) تو ہم بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دیں گے۔اور یا رسول اللہ! اگر یہاں جنگ ہوئی تو دشمن گو بہت طاقتور ہے اور تعداد میں بہت زیادہ ہے مگر ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے۔خدا کی قسم ! دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔4 تو دیکھو جب ایمان کے اعلیٰ مقام پر انسان پہنچ جاتا ہے تو سب شرطیں ختم ہو جاتی ہیں۔جان، مال یا اور کسی قسم کی شرط باقی نہیں رہ جاتی۔اُس وقت کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا کہ ہم نے جان دینے کا وعدہ کیا تھا مال دینے کا وعدہ نہیں کیا تھا۔یا ملک میں رہنے کا وعدہ کیا تھا ، ہجرت کرنے کا وعدہ نہیں کیا تھا۔دن کو کام کرنے کا وعدہ کیا تھا رات کو کام کرنے کا وعدہ نہیں کیا تھا۔کامل ایمان حاصل ہو جانے کے بعد اور اُخروی زندگی پر پورا یقین ہو جانے کے بعد کوئی شرط نہ صرف پیدا نہیں ہوئی بلکہ شرط کی طرف ایک اشارہ کرنا بھی مومن اپنی بدترین ہتک سمجھتا ہے۔اگر اُس کے سر پر دوسو جو تا بھی مار لیا جائے تو وہ اتنابر انہیں سمجھے گا جتنا وہ اس بات کو برا سمجھے گا کہ کوئی اُس کی طرف یہ بات منسوب کرے کہ اُس کا ایمان شرطی ہے۔کیونکہ ایمان کے ساتھ شرط کے معنی پورے تقویٰ اور آنکھیں کھل جانے کے بعد بے ایمانی کے ہوتے ہیں اور کچھ نہیں۔بے شک کمزور ایمان کا آدمی شرطیں بھی لگاتا ہے اور وہ شرطیں اُسے بے ایمان نہیں بنا تیں۔جس طرح مدینہ کے لوگوں نے شرطیں کیں اور وہ ایمان پر قائم رہے۔مگر اُن کے ایمان پر قائم رہنے کی یہ وجہ نہیں تھی کہ شرط ایمان میں جائز ہے بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان پر ابھی ایمان کی حقیقت نہیں کھلی تھی۔جیسے ایک چھوٹا بچہ اگر ماں باپ کی گود میں پیشاب کر دے تو وہ بے ادب نہیں