خطبات محمود (جلد 29) — Page 167
$1948 167 خطبات محمود 66 تیار ہو سکے۔شاید میرا وہ الہام جو 1943 ء میں ہوا تھا اور اُسی وقت شائع بھی ہو گیا تھا کہ روز جزا قریب ہے اور راہ بعید ہے۔1 اُس کا ایک مفہوم یہ بھی تھا کہ الہی نشانات کے ظاہر ہونے کا وقت تو قریب آچکا ہے مگر جماعت کے لیے ان حالات سے فائدہ اٹھانے کی راہ ابھی بعید ہے اور ہم آہستہ آہستہ اس درجہ کے مقام تک پہنچیں گے کہ ان عظیم الشان نشانات کے مطابق اپنی زندگی بسر کر سکیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو ہماری نسبت اچھی طرح پڑھ سکتا ہے۔ہم اپنے متعلق غلطی کر سکتے ہیں لیکن خدا تعالی غلطی نہیں کر سکتا۔جو وہ کہتا ہے وہی صحیح ہے اور جو اُس کا علم ہے ہمیں بہر حال اُس کے تابع چلنا چاہیے اور تابع چلنا پڑے گا۔غرض اس بات پر غور کر کے اور اس بات کو سمجھ کر اور اس کے فوائد کی اہمیت کو محسوس کر کے کہ چند افراد قوم کا کوئی بڑی قربانی کر دینا اتنا شاندار نہیں ہوتا جتنا اکثر افراد قوم کا یا سب قوم کا اس سے کم قربانی کرنا۔اگر قوم میں سے دو یا چار آدمی سو میں سے اتنی یا نوے نمبر حاصل کر لیتے ہیں تو یہ جماعت کے لیے اتنا شاندار اور بابرکت نہیں ہوسکتا جتناسو میں سے اسٹی کا چالیس یا پینتالیس نمبر لے لینا۔میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جس قربانی کا میں نے جماعت سے مطالبہ کیا تھا اُس کی شکل بدل دوں۔میرے نزدیک جو بات میں نے کہی تھی وہ چوٹی کی قربانی کے مطابق نہیں تھی۔چوٹی کی قربانی یقیناً اُس سے زیادہ شاندار ہوتی ہے اور ہونی چاہیے کیونکہ جہاں تک ایمانِ کامل کا سوال ہے اس میں کسی نسبت اور غیر نسبت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مومن کی طرف سے شرطیں نہیں ہوا کرتیں، مومن کی طرف سے حد بندیاں نہیں ہوا کرتیں۔یہ سب چیزیں ایمان کی کمزوری تک ہی چلتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوای کوسن کر جب مدینہ کے لوگوں نے آپ کے پاس ایک وفد بھیجا تا کہ وہ آپ کی باتیں سن کر کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں کہ آیا آپ صادق ہیں یا نہیں۔اور یہ وفد مکہ میں آیا تو اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے باتیں کیں اور وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ آپ راستباز اور صادق القول ہیں۔اس کے بعد وہ وفد واپس مدینہ چلا گیا اور اپنے ہم قوموں کے سامنے اُس نے اپنی تحقیقات کی رپورٹ پیش کی۔اس کے بعد مدینہ کے لوگوں نے پھر ایک وفد آپ کے پاس بھیجا تا وہ با قاعدہ بیعت بھی کریں اور ساتھ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دیں کہ آپ بجائے مکہ میں ٹھہرنے کے مدینہ تشریف لے آئیں کیونکہ اُس وفد کے جانے کے بعد ایسے امکانات پیدا ہو گئے