خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 163

1948ء 163 خطبات محمود سے بھی اُن کو تسلی نہ ہو تو صحیح طریق یہ ہے کہ وہ خاتون اپنے خاوند کو ساتھ لے کر آجائیں ہم ٹرنک اُن کے سامنے رکھ دیں گے۔ وہ دیکھ لیں کہ ہمارے گھر میں کتنے گوٹہ کناری والے کپڑے ہیں اور وہ کب سے بنے ہوئے ہیں۔ وہ کپڑوں کی قیمت کا بھی اندازہ لگا لیں۔ اگر اُن کی بیان کردہ قیمت سے وہ کم قیمت کے ہوئے تو وہ اس کمی کو پورا کر دیں۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ جو چیز آسانی سے طے کی جاسکتی ہے اُس کے لیے کسی جھگڑے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اب بھی جمعہ کی نماز میں میری بیویاں آئی ہوئی ہیں اور وہ وہاں بیٹھی ہیں ۔ اُن کا لباس وہ دیکھ لیں۔ دو کومیں نے یہ خط بتایا ہی نہیں دو کو میں نے بتایا ہے مگر وہ اُسی لباس میں ہی آگئی ہیں۔ خط سننے کے بعد اُنہوں نے لباس کو بدلا نہیں اور اس کی میں خود گواہی دیتا ہوں ۔ اُن کے لباس کو دیکھ لیں کہ کیا یہ اعتراض درست ہے؟ باقی رہا سنگھار کا سوال ۔ سو ظاہر ہے کہ وہ سنگھار اسی رقم میں سے کر سکتی ہیں جو میں اُن کو دیتا ہوں اور وہ رقم میں بتا چکا ہوں۔ ایک کے پاس جیسا کہ میں نے بتایا ہے صفر بچتا ہے اور صفر سے جتنا سنگھار کیا جا سکتا ہے وہ ظاہر ہے۔ باقی بیویوں کے پاس بھی زیادہ سے زیادہ پندرہ روپے بچتے ہیں اور آجکل گرانی کا جو حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ان پندرہ روپوں میں جتنا کپڑا خریدا جا سکتا ہے یا جتنی جوتیاں خریدی جاسکتی ہیں اُس کے متعلق ہر شخص خود ہی اندازہ لگا سکتا ہے۔ آجکل تو اتنے روپیہ میں جوتیاں بھی مشکل سے خریدی جاسکتی ہیں۔ قیمتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ حیرت آتی ہے۔ دس پندرہ روپے میں ایک معمولی جوتی آتی ہے۔ اگر دیسی جوتی کا بھی استعمال کیا جائے تو جو جوتی کبھی سوا ر و پے میں آتی تھی اب آٹھ آٹھ نو نو روپے میں آتی ہے۔ پھر تیل اور صابن وغیرہ سب چیزیں نکال کر دیکھنا چاہیے کہ ان کے پاس کیا بچتا ہے اور اُس میں سے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے۔ باقی رہا ئنر ۔ سو اگر کوئی ہنر اور سلیقہ شعاری سے کام لیتا ہے تو اُس پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ ۔ بلکہ یہ قابلِ تعریف بات ہے۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کے لیے ایک بکرے کی ضرورت تھی ۔ آپ نے ایک صحابی کو بلایا اور اُسے ایک دینار دے کر فرمایا کہ اس کا بکرا لے آؤ۔ وہ تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا تو اُس نے کہا یا رسول اللہ ! یہ بکر ابھی حاضر ہے اور دینار بھی حاضر ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تم نے کیا کیا ؟ کیا بغیر قیمت ادا کیے لے آئے ہو؟ اُس نے کہا یا رسول اللہ ! یہ بات نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ بجائے مدینہ سے خریدنے کے میں تین چار میل باہر