خطبات محمود (جلد 29) — Page 162
$1948 162 خطبات محمود دینے والا عملہ نہ ہو یہ عقل کے خلاف بات ہے۔یہ جو کہا گیا ہے کہ لجنہ کی کلرک کیوں ہے؟ اس کے متعلق یادر ہے کہ لجنہ کی ایک کلرک نہیں بلکہ دو کلرک ہیں۔اس طرح میں اعتراض کرنے والی کے اعتراض کو اور بھی پکا کر دیتا ہوں لیکن مجھے دو پر بھی اعتراض ہے۔میں قریباً سال بھر سے اپنی بیوی سے جھگڑا کر رہا ہوں کہ دو کلرک کافی نہیں ایک تنخواہ دار سیکرٹری کا بھی اضافہ کیا جائے۔مگر اُس خاتون کو اعتراض ہے کہ ایک کلرک بھی کیوں ہے۔اُنہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان اور امریکہ میں چار سو لجنات پائی جاتی ہیں۔ان سب کا کام ایک کلرک کیسے کر سکتی ہے۔اس خاتون نے تو دفتر میں کبھی کام نہیں کیا۔اُس کے خاوند نے کیا ہو گا وہ اپنے خاوند سے پوچھے کہ چار سو ڈپٹی کمشنروں سے خط و کتابت کرنے کے لیے کتنے عملہ کی ضرورت ہوتی ہے۔یہاں پنجاب میں سولہ ڈپٹی کمشنر ہیں۔ان سولہ ڈپٹی کمشنروں کی نگرانی کے لیے کمشنروں کے دفاتر میں کتنا عملہ رکھا ہوا ہے۔پھر چار سولجنات کے لیے کوئی ایک کلرک کس طرح کافی ہو سکتی ہے۔پھر اُس خاتون نے تو غالباً تعلیم نہیں پائی اس لیے شاید وہ اس کی اہمیت نہ سمجھ سکیں لیکن وہ اس بارہ میں اپنے خاوند سے ہی دریافت کر لیں۔میری بیوی ایم اے کا امتحان دے رہی ہے اور دو سال کی پڑھائی آٹھ مہینے میں کر رہی ہے۔اس خاتون نے خود تو کوئی امتحان نہیں دیا ہوگا۔اُس کے خاوند اور بھائیوں نے تو ایم اے کی تیاری کی ہوگی۔وہ اُن سے ہی پوچھ سکتی ہیں کہ اس پر کتنا وقت صرف ہوتا ہے۔چار گھنٹے اُن کوصرف پروفیسر پڑھاتے ہیں اور پھر پڑھائی کو یاد کرنے کے لیے بھی وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔کچھ میں بھی اُن سے دفتر کا کام لیتا ہوں۔اس لیے اُن پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ وہ کام نہیں کرتیں۔یہ بھی اعتراض کیا گیا ہے کہ آپ کی خاندان کی عورتیں لجنہ میں نہیں جائیں۔واقع یہ ہے کہ عورتیں اس وقت بیٹھی سن رہی ہیں کہ یہاں دو جلسے ہوتے ہیں۔ایک جلسہ قادیان کی لجنہ کا ہوتا ہے اور دوسرا جلسہ لاہور کی لجنہ کا ہوتا ہے۔ابھی کچھ دن ہوئے لاہور کی لجنہ کا جلسہ ہوا۔جب تعداد معلوم کرنے کے لیے پوچھا گیا کہ لاہور کی عورتیں کھڑی ہو جائیں تو اُس میں لاہور کی صرف پچاس عورتیں تھیں اور دوسو قادیان کی عورتیں تھیں۔یہ لاہور کی لجنہ کا حال ہے۔لیکن قادیان والی عورتوں کے جلسہ میں شاز و نادر ہی کوئی لاہور کی عورت آتی ہے۔پس یہ اعتراض بھی غلط ہے۔غرض تمام باتیں جو اس خاتون نے لکھی ہیں غلط فہمی پر مبنی ہیں۔لیکن اگر میرے اس جواب