خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 8

$1948 8 خطبات محمود بندے کی طرف سے ہی ہوتی ہے۔ورنہ خدا تعالیٰ ایک محبت کرنے والی ماں سے بھی بڑھ کر چاہتا ہے کہ اپنے بندوں سے پیار کرے۔وہ چاہتا ہے کہ اپنے بندوں سے محبت کا سلوک کرے اور وہ چاہتا ہے کہ اپنے بندے کو اپنی محبت بھری گود میں اٹھا کر اُسے تسلی دے۔لیکن انسان ! وہ انسان جو مصائب میں مبتلا ہوتا ہے، وہ انسان جو آلام کے بوجھ کے نیچے ہوتا ہے، وہ انسان جو ہر وقت محتاج ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اُس کی مدد کرے اور اُسے ان مصائب و آلام سے نجات بخشے اور وہ انسان جو ہر وقت محتاج ہوتا ہے اس بات کا کہ کوئی اُس کا سہارا بنے اور اُسے تسلی دے وہ محتاج اور کمزور انسان مستغنی بنا رہتا ہے۔مگر وہ مستغنی خدا عرش پر بے تاب رہتا ہے اس بات کے لیے کہ اُس کا بندہ اُس کی طرف آئے۔پس اپنے قلوب کے اندر نمایاں تغیر پیدا کرو اور خدا تعالیٰ سے محبت پیدا کر کے اُس سے مدد مانگو اور دکھ درد، رنج و غم اور مصائب و آلام کے وقت اُسے پکارو۔کیونکہ ہمارا حق ہے کہ اُس کی مدد چاہیں۔یا درکھو! خدا تعالیٰ ہمارا محتاج نہیں بلکہ ہم اُس کے محتاج ہیں۔اگر مسلمانوں کے اندروہی جذبات ہوتے اور اگر ان کے اندروہی پیار، محبت اور اتحاد ہوتا جو صحابہ میں تھا تو جو کچھ گزشتہ ایام میں ہوا اور آنکھوں نے دیکھا اور کانوں نے سنا وہ کبھی نہیں ہو سکتا تھا۔ہماری کوتاہیوں ، ہماری غفلتوں اور ہماری سستیوں نے یہ بدانجام دکھایا۔اور اب ہماری اصلاح ہی ہمیں اس بد انجام سے محفوظ کرسکتی ہے۔اور ہماری اصلاح نہیں ہوسکتی جب تک ہم خدا تعالیٰ کی محبت کو اپنے اندر جذب نہیں کر لیتے۔اب میں وہ طریق بیان کرتا ہوں جن سے خدا تعالیٰ کی محبت کو جذب کیا جاسکتا ہے۔اس کا سب سے پہلا طریق تو نماز ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نماز پڑھنے والا خدا تعالیٰ سے باتیں کرتا ہے۔اور نماز ایک ایسی چیز ہے جیسے کوئی ایک دوسرے سے باتیں کرتا ہے۔اور نماز کی کیفیت بھی بتاتی ہے کہ وہ کسی عظیم الشان ہستی کے ساتھ باتیں کرنے کے مترادف ہے۔کیونکہ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سب سے پہلے ہم کہتے ہیں اللهُ اَكْبَرُ۔ایک ہندوستانی پر شاید یہ امر واضح نہ ہو سکے مگر عربی جاننے والے جانتے ہیں کہ اللہ اکبر کسی عظیم الشان نظارہ کے دیکھنے کے وقت کہا جاتا ہے۔یعنی جب کبھی عرب کے لوگ کوئی پر رعب اور پُر ہیبت نظارہ دیکھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اللهُ اَكْبَرُ۔یا یوں سمجھ لو کہ جب ہم کوئی اس قسم کا نظارہ دیکھتے ہیں تو بے اختیار ”اُف“ کا لفظ مارے منہ سے نکل جاتا ہے اور ہم کہہ اٹھتے ہیں اُف ! کیسا شاندار نظارہ ہے۔اسی طرح جب عرب کے