خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 9

$1948 9 خطبات محمود لوگ کوئی عجیب وغریب نظارہ دیکھتے ہیں تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں اللہ اکبر۔پس جب ایک نمازی نماز کے لیے کھڑا ہوتے وقت اللہ اکبر کہتا ہے تو اس کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہوتا ہے کہ میں جو نظارہ دیکھنے لگا ہوں یعنی خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونے لگا ہوں اس نظارہ کی مجھے امید بھی ہوسکتی تھی کیونکہ خدا تعالیٰ تو وراء الوراء ہستی ہے۔خدا تعالیٰ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ 1 یعنی انسان کی آنکھیں خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتیں مگر جب وہ اپنے آپ کو انسان پر منکشف کر دیتا ہے تو انسان اُسے دیکھ سکتا ہے۔پس جب ہم نماز شروع کرتے وقت اللہ اکبر کہتے ہیں تو گویا ہم یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ افت ! ہم یہ کیا چیز دیکھ رہے ہیں جس کے دیکھنے کی ہمیں امید ہی نہ تھی اور ہمارے اندر اس کے دیکھنے کی طاقت ہی نہ تھی۔پھر جب ہم اللہ اکبر کہہ چکتے ہیں تو گویا ہم غائب ہو جاتے ہیں اس دنیا سے غائب ہو جاتے ہیں دوستوں ، رشتہ داروں سے اور غائب ہو جاتے ہیں خویش و اقرباء سے۔حتی کہ ہم کسی دوست یا رشتہ دار کے سلام کا جواب نہیں دیتے اور کسی چھوٹے یا بڑے کی گفتگو کے جواب میں گفتگو نہیں کرتے۔اور ہم گویا تمثیلی طور پر اس دنیا سے غائب ہو جاتے ہیں۔اور جب ہم نماز کو ختم کرتے ہیں تو جیسے باہر سے آنے والا کوئی شخص کہتا ہے السَّلامُ عَلَيْكُمُ۔اسی طرح ہم بھی دائیں کو منہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں السَّلامُ عَلَيْكُم اور بائیں کو منہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں السّلامُ عَلَيْكُمُ۔گویا ہم کہیں باہر گئے ہوئے تھے اور اب واپس آئے ہیں۔پس اللهُ اَکبَرُ سے شروع ہونے والے نظارہ کے وقت ایک مسلمان یہ اعتراف کرتا ہے کہ میں اب دنیا سے غائب ہو گیا ہوں اور اب میں ایسا نظارہ دیکھ رہا ہوں جو میں دنیا میں رہ کر نہ دیکھ سکتا تھا اور میں اس نظارہ کی وجہ سے محو اور سرشار ہو گیا ہوں اور یہ محویت اس قدر ہے کہ میں کسی اور سے بات کرنا بھی نہیں چاہتا۔پھر جب وہ سلسلہ ختم ہوتا ہے تو مسلمان اپنے آپ کو واپس اس دنیا میں پا کر کہتا ہے السَّلامُ عَلَيْكُمْ۔یعنی وہ کہتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے دربار میں گیا ہوا تھا اور اب اپنا کام کر کے واپس آ رہا ہوں۔پس نماز خدا تعالیٰ سے باتیں کرنے کا ذریعہ ہے اور اسلام میں سب ارکان سے مقدم اور اہم ہے۔اس لیے میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ہمارے لیے سب سے مقدم چیز یہ ہے کہ ہم نمازوں کے پابند ہوں کیونکہ تعلق باللہ کا سب سے بڑا ذریعہ یہی ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نماز کی پابندی کئی رنگ کی ہوتی ہے:۔