خطبات محمود (جلد 29) — Page 7
$1948 7 خطبات محمود (امرتسر میں ایک مجسمہ کوئین وکٹوریہ (Queen Victoria) کا ہے۔اُس کے گرد سنگ مرمر کا چبوتر ابنا ہوا ہے۔کٹہر ابھی سنگ مرمر کا ہے اور سیٹرھیاں بھی سنگ مرمر کی ہیں۔میں نہیں جانتا کہ گزشتہ فسادات اور لوٹ مار کے زمانہ میں اس سنگ مرمر کے مجسمہ کا کیا بنا۔مگر جب ہم امن کے دنوں میں امرتسر جایا کرتے تھے تو اس مجسمہ کو دیکھا کرتے تھے) میں نے رویا میں دیکھا کہ ایسا ہی سنگ مرمر کا ایک چبوترا ہے۔اُسی طرح سنگ مرمر کا کٹہرا ہے اور اُسی طرح سنگ مرمر کی سیٹرھیاں اوپر کو چڑھتی ہیں۔میں نے دیکھا کہ سیڑھیوں پر ایک بچہ ہے جو دو یا تین سال کی عمر کا معلوم ہوتا ہے۔وہ بچہ کھٹنوں کے بل جھکا ہوا ہے اور وہ اُن سیڑھیوں کی بالائی سیڑھی پر ہے۔وہ چبوترے کے آگے اس طرح سر جھکا کر کھڑا ہے جیسے کسی سے کوئی چیز طلب کر رہا ہے۔یا جیسے کوئی بچہ اپنی ماں کی گود میں آکر یہ خواہش کرتا ہے ہے کہ ماں اُس سے پیار کرے۔وہ بچہ نہایت خوبصورت ہے اور خوبصورت لباس میں ملبوس ہے۔جب میں نے اُس بچے کو دیکھا تو خواب میں میں سمجھتا ہوں کہ یہ مسیح ہے۔اُس وقت میری نظر او پر آسمان کی طرف اٹھی اور میں نے دیکھا کہ آسمان پھٹا ہے اور اُس پھٹی ہوئی جگہ میں سے ایک نوجوان عورت جس کی عمر ہیں یا بائیس سال کی معلوم ہوتی ہے اور اُس کا خوبصورت رنگ آنکھوں کو خیرہ کیے دیتا ہے نیچے اترنا شروع ہوئی۔اُس عورت کے پر بھی ہیں جیسے عام طور پر قصے کہانیوں میں پریوں کے بیان کیے جاتے ہیں۔وہ عورت جوں جوں نیچے کو اُترتی ہے، اپنے پروں کو ہلاتی ہے گویاوہ اس بچے کو اپنے پروں میں لے لینا چاہتی ہے۔اُس وقت میں نے سمجھا کہ یہ عورت مریم ہے۔اور معا میری زبان پر جاری ہوا کہ کو کری ایٹس کو Love creates love) محبت محبت پیدا کرتی ہے۔پس اس رؤیا کے ذریعہ مجھے بتایا گیا کہ ہر انسان اپنے اندر مسیحی صفت رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ اُس کے ساتھ مریمی رنگ میں محبت کرتا ہے۔جب کسی انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت موجزن ہوتی ہے اور جب انسان اپنے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت کی سوزش اور جلن محسوس کرتا ہے تو یہ سوزش اور جلن بغیر جواب کے نہیں رہتی۔بلکہ آسمان پر خدا تعالیٰ کے دل میں بھی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔اور جیسے ایک محبت کرنے والی ماں اپنے بچے کی آواز پر دوڑتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ بھی اپنے بندے کی محبت کا جواب محبت میں دینے کے لیے دوڑتا ہے اور آکر اُسے پیار کرتا ہے۔پس اگر ان محبت کے تعلقات میں کوئی کوتاہی ہوتی ہے تو بندے کی طرف سے ہوتی ہے اور اگر کوئی غفلت یا سستی ہوتی ہے تو وہ بھی