خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 138

$1948 138 خطبات محمود چلے جاتے اور اُس سے ریٹ دریافت کرتے۔اگر وہ بھی اتنا ہی ریٹ بتاتا تو تم بدھ یا جمعرات کو دونوں میں سے کسی ایک دکان سے سامان خرید لیتے یا کرایہ پر لے لیتے اور اپنے کام میں کامیاب ہو جاتے۔لیکن اگر تم جمعہ کے دن وعدہ کر کے اگلے جمعہ کو جاتے ہو یا اگلی جمعرات کو جاتے ہو تو تم خود اس بات کا ثبوت ہم پہنچاتے ہو کہ تمہارا نفس نیک نہیں تھا وہ جھوٹا تھا۔وہ فریب کرنا چاہتا تھا کیونکہ تم نے اس دن کام کیا جس کے بعد اصلاح ناممکن تھی۔اگر تم نے یہ خیال کر لیا تھا کہ چونکہ پچھلے جمعہ میں لوگ زیادہ نہیں تھے اس لیے اس جمعہ میں بھی لوگ اتنے ہی ہوں گے۔اس لیے زیادہ انتظام کی ضرورت نہیں اور تھوڑے سائبانوں سے گزارہ ہو جائے گا۔تو یہ بھی تمہارے نفس کا ایک دھوکا تھا۔پچھلے جمعہ میں اگر لوگ زیادہ نہیں تھے تو اس لیے کہ نماز جلدی ہو گئی تھی۔آج بہت زیادہ لوگ آئے ہوئے ہیں اور اگلے جمعوں میں بھی آئیں گے۔ان میں سے بہت سے گو اندر برآمدہ میں بیٹھے ہیں مگر اسی لیے کہ باہر دھوپ کی وجہ سے جگہ نہیں اور وہ مجبوراً اندر بیٹھے ہیں ورنہ ان کو باہر بیٹھنا چاہیے تھا۔اس کے بعد میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں پہلے بھی بہت دفعہ میں توجہ دلا چکا ہوں لیکن جو بات ضروری ہو اس کو اُس وقت تک دہرانا پڑتا ہے جب تک لوگ عمل نہ شروع کر دیں۔بلکہ اگر عمل بھی کرنے لگیں تب بھی ضروری باتوں کو ہرانا پڑتا ہے کیونکہ بہت سے لوگ بعد میں سُست ہو جاتے ہیں اور وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب ان باتوں کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جو واقعات گزشتہ ایام میں ابتلاؤں اور مصیبتوں کے پیش آئے ہیں اور جن کے متعلق خدائی خبریں بہت دیر سے چلی آرہی تھیں وہ ختم نہیں ہو گئے بلکہ بعض نئے حالات ایسے پیدا ہورہے ہیں جن سے فساد اور تفرقہ کی نئی صورتیں پیدا ہونی ممکن ہیں۔اور اس حد تک ممکن ہیں کہ گزشتہ فسادات اور گزشتہ تباہیاں ان کے مقابلہ میں بالکل بیچ ہو جائیں۔یہ باتیں آج تمہارے وہم اور قیاس سے اُسی طرح بالا ہیں جس طرح آج سے سال بھر پہلے تم یہ قیاس بھی نہیں کر سکتے تھے کہ چھ مہینہ کے اندراندر کیا ہو جائے گا اور کس طرح 76 لاکھ کے قریب انسان اِدھر اُدھر بھاگ جائے گا۔بلکہ اگر دونوں طرف کی آبادی کو ملا لیا جائے تو سوا کروڑ یا ڈیڑھ کروڑ آدمی ادھر اُدھر چلا جائے گا۔اگر کوئی شخص تم کو صبح یہ خبر سنائے کہ ایران کا سارا ملک خالی ہو گیا ہے یا تم کو صبح یہ خبر سنائے کہ سکاٹ لینڈ کا سارا ملک خالی ہو گیا ہے یا مثلا تمہیں یہ خبر سنائے کہ یونان اور البانیہ اور