خطبات محمود (جلد 29) — Page 139
$1948 139 خطبات محمود بلغاریہ، یہ سارے کے سارے خالی ہو گئے ہیں اور اُن میں کوئی آبادی نہیں رہی تو تم اسے مانو گے بلکہ فوراً کہو گے کہ جھوٹ بولا جارہا ہے۔یا کہو گے کہ یہ اپریل فول ہے اس میں صداقت کا شمہ بھر بھی نہیں۔لیکن تمہارے ملک میں یہی بات ہوئی۔ڈیڑھ کروڑ آدمی چند دنوں کے اندر اندر اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر آ گیا۔اور یہ ڈیڑھ کروڑ اپنی جائیدادوں سے بے دخل ہو گیا، اپنے مکانوں سے محروم ہو گیا اور اپنی تمام ملکیتی زمینوں کو کھو بیٹھا۔کسی کی زمین کا ایک حصہ بلکہ حصہ کیا اگر دو کھیتوں کے درمیان کی ایک لائن جو بتاتی ہے کہ یہ کھیت اُس کا ہے اور وہ کھیت اس کا یا ایک بٹ جو پانی روکنے کے لیے بنائی جاتی ہے یہ ساری بٹ نہیں یہ ساری لائن نہیں بلکہ اس کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی اگر کوئی دوسرا شخص لے لیتا ہے تو مقدمات شروع ہو جاتے ہیں، وکیل کیے جاتے ہیں، عدالتوں میں پیشیاں ہوتی ہیں۔اور پھر اگر ایک جج خلاف فیصلہ دیتا ہے تو دوسرے حج کے پاس مقدمہ پہنچایا جاتا ہے۔دوسرا حج بھی خلاف فیصلہ کرے تو تیسرے حج کے پاس مقدمہ پہنچایا جاتا ہے۔یہاں تک کہ ہوتے ہوتے ہائیکورٹ تک مقدمات پہنچائے جاتے ہیں۔اور بعض دفعہ جب لوگ ہائیکورٹ کے فیصلہ پر بھی مطمئن نہیں ہوتے تو پریوی کونسل تک مقدمات لڑے جاتے ہیں۔بعض دفعہ ایک ایک روپیہ کے مقدمے قانونی نقائص کی وجہ سے پریوی کونسل میں گئے ہیں۔کیمل پور کے ایک نواب ہیں اُن کا ایک مقدمہ ایک یا دو روپیہ کا تھا۔مگر چونکہ اُس میں ایک قانونی سوال تھا وہ ہائی کورٹ میں گیا اور ہائی کورٹ کے بعد پر یوی کونسل میں گیا ت اور آخر انہوں نے مقدمہ جیت لیا۔غرض چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے سالہا سال مقدمات لڑے جاتے ہیں اور معمولی معمولی اختلافات پر دنوں، ہفتوں اور سالوں تک مجالس شکوے شکایتوں سے پر رہتی ہیں۔مگر یہاں کسی منڈیر کا سوال نہیں تھا، کسی پر نالے کا سوال نہیں تھا، کسی بٹ کا سوال نہیں تھا، کسی لکیر کا سوال نہیں تھا، کسی معمولی زمین کا سوال نہیں تھا بلکہ لاکھوں لاکھ ایکڑ زمین کا سوال تھا۔غیر مسلم ہمارے علاقہ میں 72 لاکھ ایکڑ زمین چھوڑ گیا ہے اور مسلمان صرف مشرقی پنجاب میں 45 لاکھ ایکڑ چھوڑ آیا ہے۔عمارتیں اور کارخانے الگ ہیں، لاکھوں روپے کے کارخانے صرف قادیان میں ہی تھے اور وہاں جو جائیداد میں تھیں وہ کروڑوں روپیہ کی تھیں حالانکہ وہ ایک معمولی سا قصبہ تھا۔اس پر قیاس کرتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مشرقی اور مغربی پنجاب میں ہندوؤں ،سکھوں اور مسلمانوں نے کتنی جائیداد چھوڑی۔در حقیقت امرتسر، جالندھر اور لدھیانہ وغیرہ میں جو جائیداد مسلمانوں۔