خطبات محمود (جلد 29) — Page 4
$1948 4 خطبات محمود اور مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ نظارہ پانچ سال کے عرصہ سے تعلق رکھتا ہے۔تب میں نے سمجھا کہ آئندہ پانچ سال کے اندر کوئی اہم واقعہ اسلام کے متعلق پیش آنے والا ہے اور گویا مسلمانوں کو اُس آفت سے نے کے لیے میں بطور بوائے ہوں۔اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بھی بتایا کہ جب تک وہ واقعہ پیش نہ آئے مجھے زندہ رکھا جائے گا۔اس رؤیا کے پورا ہونے کا ایک پہلو تو یہ بھی نظر آتا ہے کہ ہمارا ملک اس عرصہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے آزاد ہو چکا ہے اور ایسے حالات میں آزاد ہوا ہے جن کی موجودگی میں آزادی مل جانا خلاف تو قع تھا اور کسی کو یہ وہم بھی نہیں گزرسکتا تھا کہ اتنی جلدی ہمارا ملک آزاد ہو جائے گا۔پھر آزادی ملنے کے ساتھ ہی ایسے واقعات بھی رونما ہوئے جو آج سے تھوڑا عرصہ پہلے کسی کے خیال میں بھی نہ تھے۔مسلمانوں پر ایک بہت بڑی تباہی آئی اور بہت بڑی آفت کا انہیں سامنا کرنا پڑا۔گو یہ تباہی ہندوؤں پر بھی آئی مگر اس زمانہ میں جب مجھے یہ رویا دکھایا گیا تھا کسی شخص کے وہم وگمان میں بھی نہ آسکتا تھا کہ ہمارے ملک میں اتنا بڑا اور عدیم المثال تغیر آئے گا اور ہمارا ملک چند سالوں کے اندر اندر آزادی حاصل کرلے گا اور وہ آزادی ایسی ہوگی جو اپنے ساتھ بہت سی تاریکیاں اور ظلمتیں بھی رکھتی ہوگی۔اس رؤیا کے ساتھ ایک اور رویا بھی تھی جس کے متعلق مجھے تو کچھ یاد نہ تھا لیکن آج کے اخبار الفضل میں مجھے ایک شخص کا مضمون پڑھ کر وہ رویا یاد آ گئی۔اس رویا میں ایک مضمون بار بار مجھ پر نازل ہوا۔وہ پورا مضمون تو مجھے یاد نہیں مگر اتنا یاد ہے کہ اس میں بار بار بیالیس اور اڑتالیس کا لفظ آتا تھا۔بیالیس کی تعبیر تو میری سمجھ میں نہیں آئی۔شاید بیالیس سے مراد 1942 ء ہی ہو جیسا کہ میں نے رویا کی تعبیر کرتے وقت خطبہ میں بھی بیان کیا تھا۔کیونکہ 1942ء میں جمعوں کے متواتر ایسے اجتماعی ہوئے جو اسلام کی ترقی کی طرف توجہ دلاتے تھے۔بہر حال اڑتالیس کا لفظ پنج سالہ زمانہ کی طرف نی توجہ دلاتا تھا۔یہ رویا میں نے مارچ 1944ء میں دیکھی تھی اور یہ پنج سالہ زمانہ مارچ 1949ء میں خو ہوتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی بار بتایا ہے رویا کی تعبیر میں اگر پورا سال ہو تو اُس کی کسر بھی حمد خطبہ کے بعد ایک دوست نے خط لکھا کہ شاید 42 سے مراد او پر کی رؤیا کی طرف توجہ دلا نا مقصود ہو اور بتایا گیا ہو کہ 42 میں پانچ سال جمع کیے جائیں تو یہ واقعہ ظاہر ہوگا یعنی 1947ء اور 1948ء میں اللہ تعالیٰ اس تباہی سے بچنے کے سامان پیدا کرے گا۔