خطبات محمود (جلد 29) — Page 114
$1948 114 خطبات محمود اعلیٰ درجہ کی تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔مگر ما ئیں چونکہ خود نہیں جانتیں کہ اصلیت کیا ہے کوئی اوٹ پٹانگ جواب دے دیتی ہیں۔کبھی وہ اُسے خاموش کرا دیتی ہیں، کبھی بچہ کو یہ کہ دیتی ہیں کہ یہ کوئی جادو ہے یا کوئی اور ایسی ہی چیز ہے۔اس طرح بچے کا علم سکھنے کا وقت ضائع ہو جاتا ہے۔بہترین معلم بچہ کی ماں ہو سکتی ہے بشرطیکہ ماں خود تعلیم یافتہ ہو۔ماں تعلیم یافتہ نہ ہو تو بچہ بجائے علم سکھنے کے جہالت کی باتیں سیکھتا ہے۔یا علم سیکھنے کی خواہش بالکل ماری جاتی ہے اور وہ ایک بے خواہش اور بے اُمنگ ہستی ہوکر رہ جاتا ہے۔اس کے بعد جوانی کا زمانہ آتا ہے۔کہتے ہیں "جوانی دیوانی " لیکن جتنی قربانی کی روح جوانی کے زمانہ میں پائی جاتی ہے اتنی قربانی کی روح نہ بچپن میں پائی جاتی ہے نہ بڑھاپے میں پائی جاتی ہے۔بچہ ڈرتا بہت ہے اور بوڑھا سوچتا بہت ہے لیکن جوان کام بہت زیادہ کرتا ہے۔وہ نہ اتناڈرتا ہے جس سے کام خراب ہو جائے اور نہ اتنا سوچتا ہے کہ سوچتے سوچتے کام کا وقت نکل جائے۔قوت عمل اُس میں پورے زور اور پورے شباب پر پائی جاتی ہے۔اس کے بعد بڑھا پا آتا ہے۔بڑھاپے میں نہ بچے کی سی سیکھنے کی خواہش ہوتی ہے نہ نو جوانوں جیسی قوت عمل پائی جاتی ہے۔وہ عادی ہو جاتا ہے اُن چیزوں کو دیکھنے کا جن چیزوں کے متعلق اُسے سوچنا چاہیے تھا، جن پر اُسے غور کرنا چاہیے تھا اور جن کے متعلق اُسے فکر سے کام لینا چاہیے تھا اور ایک پرانی عادت کی وجہ سے اور بار بار ان چیزوں کو دیکھنے کی وجہ سے اُس کے سیکھنے اور غور وفکر کرنے کی جسس ماری جاتی ہے۔وہی چیز جو بچہ کے لیے عجوبہ ہوتی ہے اور واقع میں عجوبہ ہوتی ہے وہ ایک بڑھے کے لیے کوئی سوچنے والی بات نہیں ہوتی۔بچہ اپنی ماں سے پوچھتا ہے کہ سورج ادھر سے کیوں نکلتا ہے اور اُدھر کیوں ڈوبتا ہے؟ وہ سمجھتا ہے کہ ادھر سے نکلنے کی کوئی وجہ ہونی چاہیے اور ادھر ڈوبنے کی کوئی وجہ ہونی چاہیے۔مگر بڑھا سمجھتا ہے ادھر سے سورج نکلا ہی کرتا ہے ہے اور اُدھر سورج ڈوباہی کرتا ہے حالانکہ اگر ادھر سے سورج نکلا ہی کرتا ہے اور اُدھر سورج ڈوباہی کرتا ہے تب بھی اس کے نکلنے اور ڈوبنے کی کوئی وجہ ہونی چاہیے۔مگر چونکہ وہ بار بار یہ دیکھتا رہا کہ سورج ادھر سے نکلتا ہے اور اُدھر غروب ہوتا ہے اس لیے رفتہ رفتہ اُس کے سوچنے اور غور و فکر کرنے کی حسن ہی ماری گئی اور وہ سمجھنے لگا کہ ایسا ہوا ہی کرتا ہے۔حالانکہ یا تو اُسے یہ بتانا چاہیے کہ اُسے پتہ لگ گیا ہے کہ سورج ادھر سے کیوں نکلتا ہے اور ادھر کیوں ڈوبتا ہے یا اُسے یہ کہنا چاہیے کہ اس کی کوئی وجہ نہیں۔