خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 111

$1948 111 خطبات محمود ہے اس لیے آجکل کے سفر میں رُخصتوں سے فائدہ نہیں اُٹھانا چاہیے حالانکہ آجکل کا سفر بعض دفعہ اتنا تکلیف دہ ہوتا ہے کہ پرانے سفر بھی اتنے تکلیف دہ نہیں ہوا کرتے تھے۔پس جہاں ی غلطی ہے کہ آجکل کے سفروں کو آرام دہ قرار دیتے ہوئے رخصتوں کو بالکل نظر انداز کر دیا جائے وہاں یہ بھی غلطی ہے کہ ان رخصتوں سے ناجائز فائدہ اٹھایا جائے اور شریعت کے احکام کے وہ حصے جن کے متعلق کوئی حکم نہیں بلکہ صرف رخصتیں ہیں اُن میں باوجود موقع ملنے کے صرف رخصت کی طرف اپنی طبیعتوں کا میلان رکھا جائے۔مثلاً نماز قصر کرنے کا حکم قرآن کریم سے ثابت ہے یہ رخصت نہیں بلکہ حکم ہے۔1 اس لیے خواہ ہمیں کوئی شخص تخت سلیمان پر بٹھا کر لے جائے جب ہم سفر پر ہوں گے نماز کا قصر کرنا ہمارے لیے واجب ہو گا۔جس طرح حضر میں چار رکعتیں فرض ہیں اسی طرح سفر میں دو رکعتیں پڑھنا فرض ہے۔جس طرح حضر میں چار کی بجائے دور کعتیں پڑھنی ناجائز ہیں اسی طرح سفر میں دو کی بجائے چار رکعتیں پڑھنی نا جائز ہیں۔لیکن نمازوں کو جمع کرنا یہ اجازت اور رخصت ہے۔اس کے متعلق ہمیں کوئی حکم نہیں دیا گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے نمازیں جمع کرنے کا ثبوت ملتا ہے مگر یہ کہیں سے ثابت نہیں ہوتا کہ آپ اس کے خلاف عمل کرنا نا جائز سمجھتے ہوں۔بلکہ اور تو اور غزوہ احزاب میں آپ نے ظہر کی نماز الگ پڑھی اور عصر کی نما ز ا لگ پڑھی۔پس میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اب ہمارے لیے چستی کا زمانہ آچکا ہے جس میں رخصتوں پر عمل کم ہوتا ہے۔اب ہمارے لیے قربانی کا زمانہ آ گیا ہے جس میں رخصتوں پر عمل کم ہوتا ہے۔اس لیے زیادہ سے زیادہ زور اس بات پر دو کہ شریعت کے احکام اُن شرائط کے مطابق ادا کرو جو شرائط خدا اور اُس کے رسول نے مقرر فرمائے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اجتماعی کاموں اور جلسوں کے لیے اگر نماز جمع کر لی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوتا مگر آج میں نمازیں جمع نہیں کراؤں گا۔اس لیے کہ ہماری شورای کا پہلا اجلاس صرف اِس قدر ہوگا کہ کمیٹیاں بنا کر ہم کہہ دیں گے کہ وہ اپنا کام کل پیش کریں اور چونکہ عصر کی نماز کا وقت اجلاس کے بعد ہمیں مل جائے گا اس لیے میں صرف جمعہ کی نماز پڑھاؤں گا۔عصر کی نماز علیحدہ وقت پر اِنشَاء اللہ پڑھاؤں گا۔اگر خطبہ دینے کی وجہ سے تکلیف نہ بڑھی تو خود پڑھا دوں