خطبات محمود (جلد 29) — Page 3
$1948 3 خطبات محمود جو سردی کی ضروریات کے لیے گرمی کے ایام میں ہی تیاری شروع کر دے اور گرمی کے ایام کی ضروریات کے لیے سردی کے ایام میں ہی تیاری شروع کر دے۔یہ جمعہ جس کے خطبہ کے لیے آج میں کھڑا ہوا ہوں یہ 1948ء کا پہلا جمعہ ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے 1944ء میں مجھے ایک رؤیا میں بتایا تھا یہ سال اپنے اندر نئی نئی امیدیں رکھتا ہے۔اُس رویا میں جو وقت بتایا گیا تھا اُس کا آخری زمانہ مارچ 1949 ء ہے۔مارچ 1944 ء میں میں نے ایک رؤیا دیکھا جبکہ بعض لوگ میرے متعلق ایسی خبریں شائع کر رہے تھے اور کچھ احمدی دوست بھی نہ معلوم کن اثرات کے ماتحت یہ خواہیں دیکھ رہے تھے کہ میری زندگی کے دن ختم ہو رہے ہیں۔ان حالات کی وجہ سے جب میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی تو مجھے ایک نظارہ دکھایا گیا کہ ایک سمندر ہے اور اس میں کچھ بوائے (Buoy) ہیں۔بوائے انگریزی کا لفظ ہے اور چونکہ یہ صنعتی شے ہے اس لیے اردو زبان میں اس کا کوئی ترجمہ نہیں۔یہ بوائے ڈھول سے ہوتے ہیں جنہیں آہنی زنجیروں سے سمندر میں چٹانوں کے ساتھ باندھا ہوتا ہے اور وہ سمندر میں تیرتے پھرتے ہیں۔اور جو جہاز وہاں سے گزرتے ہیں ان کو دیکھ کر جہاز ران یہ معلوم کر لیتے ہیں کہ اس بوائے سے چٹان قریب ہے اور اس سے بچ کر چلنا چاہیے اور اگر سمندر کے اندر چٹانوں کا نشان بتانے کے لیے بوائے نہ لگے ہوئے ہوں اور جہاز آ جائے تو جہاز کے چٹان سے ٹکرا کر ڈوب جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔بعض جہاز ایسے ہوتے ہیں جو پچاس پچاس، ساٹھ ساٹھ فٹ پانی کے اندر ہوتے ہیں بوجہ اپنے سائز کے یا بوجہ بوجھ کے یا بعض بوجہ اپنی ساخت کے۔اور اگر چٹان پانی کی سطح سے پندرہ یا بیس فٹ نیچے ہو تو ایسے جہاز چٹان کا نشان نہ ہونے کی وجہ سے چٹان سے ٹکرا کر ڈوب جاتے ہیں۔پس جہاز کو ہوشیار کرنے کے لیے اور اُسے اطلاع دینے کے لیے کہ اس جگہ چٹان ہے متمدن حکومتیں اپنے اپنے سمندری علاقوں میں لوہے کے بنے ہوئے بوائے زنجیروں کے ذریعہ چٹانوں کے ساتھ باندھ دیتی ہیں۔اُن کا رنگ سرخ ہوتا ہے اور وہ ہر وقت پانی کی سطح پر تیرتے رہتے ہیں اور اُن کو دیکھ کر جہاز والے یہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہاں خطرہ ہے اور وہ اُس جگہ سے جہاز کو بچا کر لے جاتے ہیں۔تو میں نے دیکھا کہ سمندر میں اسی قسم کے بوائے لگے ہوئے ہیں اور ان کی زنجیریں بہت لمبی ہیں اور دور تک چلی جاتی ہیں۔خواب میں میں خیال کرتا ہوں کہ اس بوائے کا تعلق میری ذات سے ہے اور تمثیلی رنگ میں وہ بوائے میں ہی ہوں