خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 2

$1948 2 خطبات محمود اور لحاف مہیا کرنے کا تھا۔اسی طرح مجھے نظر آ رہا ہے کہ اب نیا سال شروع ہو چکا ہے اور دو یا اڑھائی ماہ کے بعد گرمی کے آثار شروع ہو جائیں گے اور جمعہ کی نماز کے وقت لوگ دھوپ میں نہیں بیٹھ سکیں گے۔اور چونکہ ہر چیز کی تیاری کے لیے ایک خاص وقت ہوتا ہے اس لیے صد را مجمن احمد یہ اور تعلیم و تربیت کے افسران کا یہ فرض تھا کہ ابھی سے اس کام کے متعلق سوچتے کہ مردوں کے لیے بھی اور عورتوں کے لیے بھی سائبانوں کا کوئی انتظام ہونا چاہیے۔مگر ابھی تک انہوں نے اس امر کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔پس آج میں ان کو توجہ دلاتا ہوں کہ ضرورت کے ایام سے پیشتر ہی سائبانوں کا انتظام کر میں۔میرے خیال میں سائبان نئے بنوا لینے چاہیں۔وہ اچھے بھی ہوں گے اور سستے بھی رہیں گے۔لیکن چونکہ سائبان نئے تیار کرانے میں دو یا تین ماہ لگ جائیں گے اس لیے ابھی سے نئے سائبانوں کے لیے آرڈر دے دینا چاہیے۔یہ ایک نہایت ضروری کام تھا جس کی طرف اگر آج میں توجہ نہ دلاتا تو وی بظاہر یہی آثار نظر آ رہے تھے کہ اپریل یا مئی کے مہینہ میں ناظر ایک دوسرے کا منہ دیکھ کر سنجیدگی کے ساتھ کہتے کہ اب سائبانوں کے لیے کوئی انتظام کرنا چاہیے اور شاید اگست یا ستمبر تک جا کر سائبان تیار ہوتے۔مگر میں نے آج انہیں متنبہ کر دیا ہے کہ سائبان تیار ہونے میں دو یا تین مہینے لگیں گے اور اتنے عرصہ تک گرمی بھی آ جائے گی۔اس لیے آج ہی اُتنے سائبانوں کے لیے آرڈر دے دیا جائے جتنے سائبانوں سے عورتوں پر بھی سایہ ہو سکے اور مردوں پر بھی ہو سکے۔اس خیال میں نہیں رہنا چاہیے کہ ہم کرایہ پر سائبان لے لیں گے کیونکہ یہ ایسی چیز ہے جو ہمیشہ کام آنے والی ہے۔اور جو چیز ہمیشہ کام آنے والی ہو اُس کے لیے کرایہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جمعہ بھی ہمیشہ آتا رہے گا اور گرمیاں بھی ہر سال آتی رہیں گی۔اگر اللہ تعالیٰ کا منشا ہمیں دیر کے بعد قادیان واپس لے جانے کا ہے تو ہم جہاں رہیں گے سائبان ہمارے کام آئیں گے۔اگر ہم نے یہیں رہنا ہے تو یہاں بھی ہر سال گرمی آتی ہے رہے گی۔اور اگر ہم نے کسی اور جگہ رہنا ہے تو وہاں بھی گرمی آتی رہے گی۔اور اگر ہم خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے جلدی قادیان واپس چلے گئے تو بھی سائبان ہمارے کام آئیں گے۔پس ابھی سے سائبان تیار کرانے کا انتظام شروع ہو جانا چاہیے۔ساتھ ہی یہ بات بھی نوٹ کر لینی چاہیے کہ ہر ضرورت کے لیے اُس کے پیش آنے سے پیشتر سوچ لینا ہی فائدہ دیا کرتا ہے۔یوں تو ہر شخص گرمی کے ایام میں گرمی محسوس کرتا ہے اور سردی کے ایام میں سردی محسوس کرتا ہے۔مگر عقلمند وہ ہوتا۔