خطبات محمود (جلد 29) — Page 404
$1948 404 خطبات محمود وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اپنا بوجھ خود ہی اٹھائیں اور اگر یہ سکیم جاری ہوگئی تو قلیل عرصہ میں وہاں کا مشن مضبوط ہو سکے گا اور وہاں کے مقامی آدمی بھی تیار ہوسکیں گے۔پھر تحریک جدید کے ماتحت ارجنٹائن میں مشن قائم کیا گیا ہے۔اگر چہ وہاں کوئی مقامی احمدی نہیں ہوا لیکن عربوں میں سے بعض احمدی ہوئے ہیں۔اب وہاں ہمارا ایک اور مبلغ جا رہا ہے۔ہم نے پہلے ایک مبلغ بھیجا تھا لیکن وہ انگلینڈ میں ہی بیمار ہو گیا اور اب تک وہ وہاں ہی ہے۔اب نیا مبلغ بھجوایا جا رہا ہے اور اس کے لیے پاسپورٹ کی کوشش ہورہی ہے۔تحریک جدید کے ماتحت سابق میں ہنگری میں ، یونان میں، یوگوسلاویہ میں، پولینڈ میں اور زیکوسلواکیہ میں مشن قائم کیے گئے تھے مگر بعض مجبوریوں کی وجہ سے وہ مشن بند کر دیئے گئے اور اس کے بعد جنگ کی وجہ سے دوبارہ مبلغ نہ بھجوائے جاسکے مگر بہر حال وہاں احمدیت کا بیج بویا جا چکا ہے۔اب بعض لوگوں کی وہاں سے چٹھیاں آئی ہیں کہ جنگ کی وجہ سے ہمارے تعلقات مرکز سے منقطع ہو گئے تھے۔اب ہم چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس لٹریچر آئے تو ہم تبلیغ کے کام کو وسیع کریں۔اس کے بعد انڈونیشا کے علاقے ہیں جاوا اور سماٹرا وغیرہ جو آجکل عام مرجع توجہ بنے ہوئے ہیں اور دیر سے وہاں جنگ جاری ہے۔وہاں ہمارے صرف ایک ہی مبلغ مولوی رحمت علی صاحب تھے۔تحریک جدید کے ماتحت جاوا میں اور مبلغ بھیجے گئے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں ہزاروں ہزار لوگ احمدیت میں داخل ہو گئے ہیں جن میں سے بعض بہت ہی بارسوخ ہیں جن کا حکومت کے ساتھ بھی تعلق ہے۔امید کی جاتی ہے کہ اگر انہوں نے استقلال سے کام لیا تو خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت بہت ترقی کر جائے گی۔ہمارے تعلقات جاوا سے ہیں۔سماٹرا سے خط و کتابت بند ہے کیونکہ وہاں کمیونسٹ فتنہ بہت بڑھا ہوا ہے۔ملایا ایک اور جگہ ہے جہاں ہمارا مشن قائم ہے۔سنگاپور میں بھی جماعت قائم ہے اور اس کے ارد گر د بھی۔مگر افسوس کہ یہاں کے مبلغوں نے آپس میں لڑنا شروع کر دیا ہے۔اگر وہ صیح طور پر کام کریں تو یہ ایک اہم جگہ ہے۔مشرق اور مغرب کے درمیان رستہ پر یہ ایک اہم مقام ہے۔اگر کوشش کی جائے تو مشرق اور مغرب میں ترقی کے لیے بہت سی سہولتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔پھر بور نیو کا علاقہ ہے جو قریباً نصف ہندوستان کے برابر ہے۔مگر آبادی بہت کم ہے۔اس میں بھی ہمارے مبلغ گئے ہیں اور بعض علاقہ میں لوگ احمدیت میں داخل ہونے لگ گئے ہیں۔اور اچھا