خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 401

$1948 401 خطبات محمود بہت ایک خاص بیداری پیدا ہو رہی ہے۔وہاں کے دوست منیر احصنی صاحب مقامی احمدی ہیں جو کہ نہایت ہی مخلص اور اچھے تعلیم یافتہ ہیں۔انہوں نے یورپ میں فرانس وغیرہ میں تعلیم حاصل کی ہے۔وہ آسودہ حال اور تاجر ہیں ان کے چھوٹے بھائی دمشق کے سب سے بڑے تاجر ہیں اور ان کے ایک بھائی کی قاہرہ (مصر) میں ایک بڑی دکان ہے۔ان کے خاندان کے سب افراد احمدی ہو گئے ہیں اور مخلص اور قربانی کرنے والے لوگ ہیں۔ہمارے مبلغ کے وہاں جانے کی وجہ سے اور برادر منیر الحصنی صاحب کے قادیان میں رہ جانے کی وجہ سے وہاں کی جماعت میں ایک خاص احساس اور بیداری پیدا ہو چکی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھا اثر پیدا ہوا ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ دوسرے ممالک کے خلاف یہاں تعلیم یافتہ اور بااثر لوگوں میں تبلیغ کا زور بڑھ رہا ہے۔یہ شام وہی ہے جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے الہام فرمایا تھا کہ يَدْعُونَ لَكَ أَبْدَالُ الشام 1 شام کے ابدال تیرے لیے دعا کرتے ہیں۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ شام کی جماعت اُس وقت قائم ہوگی جبکہ جماعت احمدیہ پر ایک ابتلا آنے والا ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں اور قریب کے ہی عرصہ میں پنجاب اور فلسطین میں جس میں سب سے پہلے بڑی جماعت قائم ہوئی تھی تباہی آئی۔تحریک جدید کے ماتحت دو واقف زندگی وہاں گئے۔گو وہاں پہلے جماعت موجود تھی لیکن ان کے ذریعہ اس کا سلسلہ کے ساتھ گہرا تعلق پیدا ہو گیا۔پھر ایسے سینیا کا علاقہ ہے یہ وہ ملک ہے جہاں مسلمان شروع میں ہجرت کر کے گئے۔اس ملک میں بھی تحریک کے ماتحت ایک واقف زندگی گئے اور انہوں نے وہاں جماعت قائم کی۔اس جگہ جماعت میں نئے احمدی بھی داخل ہو رہے ہیں اور بعض افراد نے کہا ہے کہ وہ قادیان میں دینی تعلیم حاصل کرنے جائیں گے۔اس طرح تحریک جدید کے ماتحت مشرقی افریقہ میں کئی مشن قائم کیے گئے ہیں اور اس وقت وہاں غالباً دس مبلغ کام کر رہے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اب حبشی لوگوں میں تبلیغ شروع ہو گئی ہے اور ان لوگوں کو جو پہلے عیسائی ہو گئے تھے واپس لایا جا رہا ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے یوگنڈا، کینیا اور تانگانیکا مینوں جگہوں پر بڑے زور کے ساتھ تبلیغ جاری ہے۔آگے سے زیادہ جماعتیں قائم ہو چکی ہیں۔جماعت پھیل گئی ہے۔نئی مساجد بنائی گئی ہیں اور حکومت بھی تعاون کر رہی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل