خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 367

$1948 367 خطبات محمود پھر پاؤ بھر لکڑی ایک کی طرف سے جل رہی ہوتی ہے تو پاؤ بھر ایک کی طرف سے جل رہی ہوتی ہے۔پھر پتیلی ہے اُس میں بھی ہر ایک کا حصہ ہوتا ہے۔اگر دوسیر کی پیلی ہے تو ضروری ہے کہ دوسیر کھانے والے بھی موجود ہوں۔پتیلی تو ایک ہی لائی جاتی ہے مگر اُس میں ہر ایک کا حصہ ہوتا ہے مگر اس خرچ کا پتہ بھی نہیں لگتا۔شادی بیاہ میں اس سے بہت کم خرچ ہوتا ہے مگر دیوالیے نکل جاتے ہیں۔اس کی یہی وجہ ہے کہ اس پر اکٹھا خرچ کیا جاتا ہے۔پہلا خرچ پھیل گیا تھا۔مثلاً ایک لڑکی ہے وہ اٹھارہ سال کی تھی جب اُس کی شادی ہوئی وہ اٹھارہ سال تک اپنے ماں باپ کے گھر میں پلتی رہی۔اگر چھ روپے ماہوار بھی خرچ کا اندازہ لگایا جائے تو ایک سال کا خرچ بہتر روپے ہو جاتا ہے۔گویا اٹھارہ سال میں اس لڑکی پر ساڑھے بارہ سو خرچ ہوا۔اب ایک غریب گھرانہ جو معمولی خرچ پر چل رہا ہے اس کی شادی پر ساڑھے بارہ سو خرچ نہیں آتا۔ان کی شادی پر دو اڑھائی سو خرچ آئے گا مگر باوجود اس کے وہ خاندان مشکلات میں پھنس جاتا ہے اور مقروض ہو جاتا ہے جس کی ادائیگی اُس کے لیے مشکل ہو جاتی ہے اس لڑکی کے پالنے پر جو خرچ آیا وہ اس کی شادی کے خرچ سے کہیں زیادہ ہوتا ہے مگر اس کا پتہ بھی نہیں لگتا۔لیکن اب یہ خرچ اس لیے زیادہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔قادیان پچاس سال میں بنا تھا کسی نے آج مکان بنالیا تو کسی نے کل بنالیا۔اس کا پتہ بھی نہیں لگتا تھا۔اب وہ مکانات اکٹھے بنیں گے۔قادیان میں جو دفاتر ہم نے آہستہ آہستہ چندے جمع کر کے تیار کیے تھے وہ اب اکٹھے بنیں گے اور ان پر اکٹھا خرچ آئے گا۔کچی عمارتوں کے بنوانے پر جو خرچ آئے گا اُس کا جو ہم نے اندازہ کیا ہے وہ کم از کم ساڑھے تیرہ لاکھ کا ہے اور اگر ساری ضرورتوں کو پورا کیا جائے تو پھر پچیس لاکھ روپے خرچ کا اندازہ ہے۔ان سب چیزوں سے تو سب نے یکساں فائدہ اٹھانا ہے۔اگر زمین اعلیٰ سے اعلیٰ قیمت پر بھی پک جائے تو ساڑھے تیرہ لاکھ کی آمد ہوتی ہے اور چونکہ ان سے زیادہ فائدہ گاؤں والے اٹھائیں گے بہر حال وہاں کے رہنے والوں کو ہی اکثر رقم ادا کرنی ہوگی۔باہر والوں کو بھی اس میں کچھ حصہ دینا پڑے گا کیونکہ دفا تر جو وہاں بنیں گے وہ ان کی بھی خدمت کریں گے، کالج جو وہاں بنیں گے ان میں ان کے لڑکے بھی تعلیم حاصل کریں گے۔پس زیادہ خرچ وہاں کے رہنے والوں کو ہی ادا کرنا ہو گا۔پھر ہسپتال بنیں گے۔ان ہسپتالوں سے بھی فائدہ وہاں کے رہنے والے ہی اٹھا ئیں گے۔بیمار سندھ سے تو نہیں آئیں گے، صوبہ سرحد سے نہیں آئیں گے۔