خطبات محمود (جلد 29) — Page 357
$1948 357 خطبات محمود تھے۔ہر طرف دنیا انہیں مار رہی تھی ، ملک کے سارے حصوں میں اُن کے آدمی قتل کیے جارہے تھے۔اُن کا سوسو دو دو سو آدمی ہر روز قتل کیا جاتا تھا۔ایک دن وہ نیچے بیٹھے ہوئے تھے کہ کچھ آدمی آئے اور انہوں نے کہا تم شہر چلو۔بادشاہ عیسائی ہو گیا ہے اور اس نے اعلان کر دیا ہے کہ ملک کا مذہب عیسائیت ہوگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ پہنچے۔مکہ والے یہ نہیں جانتے تھے کہ آپ اُن پر حملہ آور ہوں گے۔ابوسفیان ابھی خود آپ سے مدینہ میں مل کر آ رہا تھا۔جب لوگوں نے آپ کا لشکر دیکھا تو انہوں نے خیال کیا کہ یہ لشکر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گا۔ابوسفیان نے کہا تم پاگل تو نہیں ہو گئے ؟ میں ابھی خود دیکھ کر آیا ہوں وہاں کوئی لشکر تیار نہیں ہوا تھا۔اگلے ہی چار پانچ منٹ میں مسلمان اُس کے پاس پہنچ گئے اور انہوں نے ابوسفیان کو گرفتار کر لیا اور دوسرے دن مکہ فتح ہو گیا۔غرض خدا تعالیٰ کی نصرت اچانک آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق تو خدا تعالیٰ بار بار فرماتا ہے اِنّى مَعَ الأفْوَاجِ اتِيكَ بَغْتَةً 6 خدا تعالیٰ کی مددا چانک آئے گی۔تم آج قیاس نہیں کر سکتے کہ وہ مرد کب آئے گی۔تم کل قیاس نہیں کر سکتے کہ وہ مدد کب آئے گی۔تم شام کو کی یہ خیال نہیں کر سکتے کہ وہ مدد کب آئے گی۔تم تہجد کے لیے اٹھو گے تو تم خیال کر رہے ہو گے کہ ابھی منزل باقی ہے۔صبح کی نماز پڑھ رہے ہو گے تو مصائب پر مصائب تمہیں نظر آرہے ہوں گے مگر جو نبی سورج نظر آیا خدا تعالیٰ کی نصرت تمہارے پاس پہنچ جائے گی اور تمہارے دشمن کے لیے ہر طرف مصائب ہی مصائب ہوں گے۔ایک ربوہ کیا، ایک قادیان کیا قادیان کا ہمیں بے شک احترام ہے مگر خدا تعالیٰ کی محبت اور اطاعت کی خاطر ہمیں دس ہزار قادیان بھی قربان کرنا پڑے تو ہم قربان کر دیں گے۔اُس کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔مثنوی والوں نے کہا ہے کہ ایاز کے خلاف لوگوں نے محمود کے پاس شکایتیں کیں کہ وہ اس کا دشمن اور بدخواہ ہے۔بادشاہ نے کہا کیا یہ ٹھیک ہے کہ وہ میرا بدخواہ ہے؟ وزیروں نے کہا ہاں ! اگر آپ چاہیں تو اس کا امتحان کر لیں۔بادشاہ کے پاس ایک قیمتی موتی تھا۔وہ اُسے بے انتہا پسند کرتا تھا اور وہ دوسرے ممالک کے سفیروں کو بھی دکھایا کرتا تھا اور وہ کہتے تھے کہ ایسا موتی ہمارے بادشاہوں کے پاس نہیں ہے اور اس موتی کی وجہ سے اس کی بہت عزت تھی۔بادشاہ نے خزانچی کوحکم دیا کہ وہ موتی لے آؤ